احتیاطی تدابیر کیلئے ڈاکٹرس کا مشورہ، متاثرہ مریضوں سے قربت نقصاندہ
حیدرآباد۔/13 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں گلے کا عارضہ جسے عرف عام میں’ گلے آنا ‘ کہا جاتا ہے اس کے کیسیس میں اضافہ کے سبب ڈاکٹرس نے عوام کو چوکسی کا مشورہ دیا۔حالیہ دنوں میں شہر کے سرکاری اور خانگی دواخانوں میں گلے کے عوارض کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر کمسن بچوں میں گلے میں تکلیف اور گفتگو میں دشواری جیسی شکایات دیکھی جارہی ہیں۔ ڈاکٹرس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو مذکورہ عوارض کیلئے دستیاب ویکسین کا استعمال کریں۔ ڈاکٹرس کے مشورہ سے ویکسین استعمال کی جائے۔ پرانے شہر میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بچوں میں گلے آنے کے معاملات میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرس کے مطابق یہ وائرل انفیکشن کا نتیجہ ہے جس کے سبب چہرے کے دونوں جانب غدود متاثر ہوتے ہیں اور سوجن دکھائی دیتی ہے، دس دن تک یہ سوجن برقرار رہتی ہے جو بخار میں تبدیل ہوسکتی ہے اور بخار پر قابو پانے کیلئے چھ دن لگ جاتے ہیں۔ یہ عارضہ لڑکوں اور لڑکیوں میں دیگر اعضاء کو متاثر کرسکتا ہے اور جوڑوں میں درد کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ پانچ تا 15 سال عمر کے بچے جنہیں ٹیکہ نہیں دیا گیا وہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ عارضہ متاثرہ افراد سے قربت کے نتیجہ میں پھیل سکتا ہے۔ ہوا میں کھانسی، زکام سے بھی بچے باآسانی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹرس نے مشورہ دیا ہے کہ ابتدائی علامات پر فوری علاج پر توجہ دی جائے۔