پرانے شہر کی تاریخی کمانوں کے تحفظ میں حکام کی لاپرواہی افسوسناک

   

حسینی علم، جلو خانہ اور منڈی میر عالم کی کمانیں زبوں حالی کا شکار، فوری توجہ دینے مقامی عوام کی اپیل
حیدرآباد 23 اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے تاریخی عمارتوں اور یادگاروں کے تحفظ کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا مطلب صرف چارمینار اور گنبدان قطب شاہی کا تحفظ نہیں ہونا چاہئے بلکہ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں موجود تاریخی یادگاروں کے تحفظ پر توجہ دی جائے۔ پرانے شہر میں چارمینار کے اطراف موجود کمانوں کے تحفظ کے لئے تزئین نو اور مرمت کے کام حالیہ عرصہ میں شروع کئے گئے۔ تاریخی چارمینار کو دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد کے پیش نظر اطراف کی چار کمانوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن حسینی علم اور جلو خانہ میں واقع تاریخی کمانوں کسمپرسی کا شکار ہیں اور وہ کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ہری باؤلی کے علاقہ میں ایک تاریخی کمان کو بلدی حکام نے منہدم کردیا کیوں کہ وہ راہگیروں کے لئے خطرہ بن چکی تھی۔ پرانے شہر کے عوام نے حسینی علم کمان اور جلو خانہ کمان کے تحفظ کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ دودھ باؤلی اور حسینی علم کی مصروف ترین سڑک پر یہ کمان موجود ہے جو نظام دور حکومت کی یادگار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 400 سالہ قدیم عاشور خانہ کے باب الداخلہ کے طور پر یہ کمان تعمیر کی گئی تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ بارش سے اس تاریخی کمان کو کافی نقصان ہوا ہے۔ حکام کو توجہ دلانے کے باوجود کسی نے دورہ کی زحمت نہیں کی اور اگر یہی صورتحال رہی تو یہ کمان بھی منہدم ہوجائے گی جو اطراف کے مکانات کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں نظام دور حکومت کی بیلا کمان کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے منہدم کردیا گیا ہے۔ پرانے شہر کی ایک اور تاریخی کمان جو حکام کی لاپرواہی کا شکار ہے وہ میر عالم منڈی کمان ہے۔ منڈی میر عالم کے تاجرین نے بتایا کہ نظام دور حکومت میں یہ کمان تعمیر کی گئی تھی جو قدیم ترین مارکٹ کا باب الداخلہ ہے۔ تاریخی کمانوں کی مرمت اور تزئین نو کے سلسلہ میں عہدیداروں کو فوری توجہ دینی چاہئے۔ R