پرانے شہر کی ترقی کیلئے مجلس کے رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی مستعفی ہوجائیں

   

ضمنی انتخابات پر چیف منسٹر کی خاص مہربانی ہے ، پرانا شہر میں بھی ترقی ہوگی : شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے پرانے شہر کی ترقی کے لیے مجلس کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے علاوہ مجلس کے 7 ارکان اسمبلی کو استعفیٰ پیش کرنے اور ضمنی انتخابات کا سامنا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ریاست میں جہاں بھی ضمنی انتخابات منعقد ہورہے ہیں وہاں چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا جارہا ہے ۔ سڑکوں کی تعمیر ہورہی ہے ۔ بنیادی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔ نئی نئی اسکیمات متعارف کی جارہی ہیں ۔ جس کی زندہ مثال دوباک اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے علاوہ ناگرجنا ساگر اور حلقہ اسمبلی حضور آباد بھی ہیں ۔ دوباک میں 1000 کروڑ ، ناگرجنا ساگر میں 1050 کروڑ اور اب حضور آباد میں 2 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اولڈ سٹی کو گولڈ سٹی میں تبدیل کرنے تو کبھی استنبول میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا مگر اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ یہاں تک میٹرو ریل کو بھی پرانے شہر میں توسیع نہیں دی گئی ۔ پرانے شہر میں مسائل کے انبار ہیں ہر طرف کچرے کے ڈھیر ہیں ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کا پرانے شہر میں کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور نہ ہی فلاحی اسکیمات سے پرانے شہر کے عوام کو کوئی فائدہ پہونچ رہا ہے ۔ صرف اور صرف پرانے شہر کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے مجلس کے صدر اسد الدین اویسی کے علاوہ مجلس کے 7 ایم ایل ایز ، لوک سبھا اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں ۔ ایک اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے لیے جب ہزاروں کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں تو پرانے شہر میں ایک لوک سبھا اور 7 اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لیے کروڑہا روپئے خرچ ہوں گے ۔ لہذا مجلس کی قیادت کو پرانے شہر کی ترقی کے لیے یہ قربانی دینی چاہئے بھلے ہی ضمنی انتخابات میں مجلس کامیاب ہوجائے ۔ مگر اس سے پرانے شہر کی ترقی ہوگی ۔ عوام کو شادی مبارک ، کلیانہ لکشمی اسکیم اور چیف منسٹر ریلیف فنڈز سے فائدہ ہوگا ۔ تمام زیر التواء فلائی اوورس کی تعمیر ہوگی ۔ پرانے شہر میں نئے ترقیاتی پراجکٹس آئیں گے اور ساتھ ہی ٹی آر ایس کی نمائندگی کرنے والے پرانے شہر کے ٹی آر ایس قائدین کو ایم ایل سی اور کارپوریشن کے نامزد عہدوں کے علاوہ دوسرے عہدے حاصل ہوں گے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے پرانے شہر کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر لوک سبھا اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجانے کا مجلس کی قیادت سے مطالبہ کیا ۔ اسمبلی حلقہ گوشہ محل کی ترقی کے لیے بی جے پی کارکن اسمبلی راجہ سنگھ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہوسکتا ہے تو یہ قربانی مجلس کیوں نہیں دے سکتی ؟۔۔