چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کی منتقلی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا ، میٹرو ٹرین تعطل کا شکار ، مزید اعلانات گمراہی کے مترادف
حیدرآباد۔15ستمبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے پرانے شہر کے عوام سے ایک اور وعدہ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں ٹیکنالوجی کے مرکز کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا لیکن اب تک کئے گئے وعدوں اور ان پر عمل آوری کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت پرانے شہر کے لئے صرف وعدے کرتی ہے اور عملی اعتبار سے اقدامات کچھ نہیں کئے جاتے جس کے نتیجہ میں پرانے شہر کی حالت جوں کی توں برقرار ہے اور کوئی ان حالات کو تبدیل کرنے کے لئے آگے نہیں آتا بلکہ حکومت کے اعلانات پر مدح سرائی کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ پرانے شہر سے چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کی منتقلی کے اعلان کو کئی برس گذر چکے ہیں اور 6سال کے دوران حکومت کی جانب سے صرف یہ کہا جا تا رہا ہے کہ حکومت ریس کورس کی منتقلی کے ذریعہ ریس کورس کی اراضی پر ٹیکنالوجی کے مرکز کو فروغ دے گی اور زائد از 2لاکھ ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن یہ وعدہ اب تک جوں کا توں ہے۔ اسی طرح چنچل گوڑہ جیل کی منتقلی کے بعد چنچل گوڑہ جیل کی جگہ کے جی تا پی جی تعلیمی ادارو ںکے قیام کے متعدد مرتبہ اعلانات کئے گئے لیکن ان اعلانات پر عمل آوری کے سلسلہ میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ۔پرانے شہر میں میٹرو ریل کا منصوبہ جو کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے اقتدار میں آنے سے قبل تیار کیا گیا تھا اس منصوبہ کو التواء کا شکار رکھا گیا ہے اور گذشتہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اندرون 4یوم پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے گا اور دارالشفاء تا فلک نما میٹرو ریل راہداری پر کاموں کی شروعات کی جائے گی لیکن اس راہداری پر موجود جائیدادوں پر حصول جائیداد کی نمبراندازی کے بعد کوئی پیشرفت عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ ان کاموں کو بھی مؤخر کردیا گیا۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے پرانے شہر کی ترقی کے علاوہ مسلمانوں سے کئی وعدے کئے جاتے رہے ہیں لیکن عمل آوری کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ بے اعتنائی پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی کو عوام محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ان کی یادداشت اتنی کمزور نہیں ہے کہ ان سے حکومت نے اب تک کیا کیا وعدے کئے ہیں اور کن وعدوں کو عملی جامہ پہنایا ہے۔گذشتہ یوم حکومت نے ایک مرتبہ پھر سے یہ اعلان کیا ہے کہ پرانے شہر کی ترقی کیلئے پرانے شہر میں ٹیکنالوجی کا مرکز قائم کیاجائے گا اور اس مرکز کے قیام کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں گے ۔ پرانے شہر کے ترقیاتی کاموں کے وعدوں کے برخلاف اگر شہر کے مشرقی علاقو ںکی ترقی کا جائزہ لیاجائے تو اپل‘ اے ایس راؤ نگر کے علاقوں کی ترقی کے سلسلہ میں حکومت نے کوئی اعلانات نہیںکئے تھے لیکن اب ان علاقوں کی ترقی کیلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کے متعلق یہ کہاجا رہاہے کہ اپل اور اے ایس راؤ نگر کے علاوہ پیرزادی گوڑہ کے علاقوں تک حکومت نے سائبر آباد‘ گچی باؤلی اور مادھاپور کے طرز پر خامیوں سے پاک ترقیاتی کام انجام دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
