چیف منسٹر نے ایک مرتبہ بھی پرانے شہر کا دورہ نہیں کیا، حلیف جماعت کی جانب سے حکومت کی مدح سرائی لمحہ فکر
حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پرانے شہر کی ترقی میں رکاوٹ یا پرانے شہر کو ترقی یافتہ ہونے سے روکنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے!پرانے شہرکی ترقی کے سلسلہ میں متعدد اعلانات اور بیانات تو جاری کئے جا تے ہیں لیکن عملی اقدامات کے نام پر 10 فیصد بھی کام مکمل نہیں کئے جاتے جس کی وجوہات کے متعلق عوام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت پر مؤثر دباؤ نہ ڈالے جانے کے سبب پرانے شہر کے ترقیاتی کاموں میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے اورنہ ہی چیف منسٹرکی جانب سے اب تک کوئی واضح تیقن دیا گیا ہے۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے تلنگانہ اور حیدرآباد کی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے دعوے کرنے والے چیف منسٹر نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اب تک پرانے شہر کا ایک بھی دورہ نہیں کیا اور نہ ہی پرانے شہر کے ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کوئی جائزہ اجلاس طلب کیا جبکہ چیف منسٹر نے متعدد مرتبہ شہر حیدرآباد کی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے شہر کے ارکان ارکان اسمبلی کے ہمراہ اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا لیکن تاحال ان کی جانب سے کوئی جائزہ اجلاس اس مقصد کے لئے منعقد نہیں کیا گیا اور نہ ہی منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے حکومت پر پرانے شہر کی ترقی کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوئی حکمت عملی تیار کی گئی ۔تلنگانہ راشٹرسمیتی کو اقتدار حاصل ہوئے 6برس کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اب تک بھی چیف منسٹر کی جانب سے پرانے شہر کی ترقی کے سلسلہ میں کوئی اجلاس طلب نہ کئے جانے کے علاوہ پرانے شہر کا دورہ نہ کئے جانے سے یہ واضح ہوتا جا رہاہے کہ ان علاقوں کی نمائندگی کرنے والوں کا کوئی اثر چیف منسٹر یا حکومت پر نہیں ہورہا ہے ۔17 اپریل 2018کو چیف منسٹر نے پرانے شہر میں معیاری برقی سربراہی ‘ آبرسانی کے علاوہ سیوریج نظام اور ایس آر ڈی پی کے سلسلہ میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس اجلاس میں پرانے شہر کی ترقی کیلئے 1000 کروڑ کے خصوصی پیاکیج پر غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس اجلاس کے بعد کیا پیشرفت ہوئی یہ کوئی بھی بتانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 28 اکٹوبر 2014 کو پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا تھا اور متعدد مرتبہ اس بات کا اعلان کرتے رہے ہیں لیکن اس سلسلہ میں کی جانے والی پیشرفت تو دور منصوبہ کا بھی اب تک اعلان نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر نے 17اپریل 2018کو منعقد کئے جانے والے جائزہ اجلاس کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ وہ جلد ہی پرانے شہر کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ انتظامات کا جائزہ لیں اور پرانے شہر کے دورہ کو قطعیت دیں۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھرراؤ کی حکومت کی جانب سے پرانے شہرکی ترقی کو مکمل طور پر نظر انداز کئے جانے کے باوجود حلیف جماعت کے نمائندوں کی جانب سے ان کی مدح سرائی اور ترقیاتی امور کے سلسلہ میں اختیار کی جانے والی خاموشی نے عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے اور اب عوام ہر سیاسی قائد کو کذاب تصور کرنے لگے ہیں کیونکہ اب انٹرنیٹ کے زمانہ میں ان کی یادداشت اتنی کمزور نہیں ہے کہ وہ ان اعلانا ت کو فراموش کردیں ۔ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر کو نظر انداز کئے جانے کے متعلق مختلف گوشوں کی جانب سے متوجہ کروائے جانے کے باوجود بھی اعلی عہدیداروں اور ریاستی وزراء ان مسائل کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ حکومت میں موجود بعض ریاستی وزراء کی جانب سے ٹوئیٹر کے ذریعہ حکومت چلائی جا رہی ہے اور ریاست کے ہر مقام سے مسائل کو پیش کئے جانے پر ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ پرانے شہر کے امور کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پرانے شہر کے عوام کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔