بجٹ کی کمی کا بہانہ ، تین برسوں سے متعدد کاموں کا عدم آغاز
حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں پر عمل آوری میں ہی تاخیر کیوں ہوتی ہے اور کیوں پرانے شہر کے ترقیاتی امور سے بلدی عہدیداروں کی دلچسپی نہیں ہوتی!مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد کی ترقی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں پرانے شہر کو یکسر نظر انداز کئے جانے کی متعدد شکایات منظر عام پر آتی رہی ہیں اور ان شکایات کے باوجود مسائل کی یکسوئی کے بجائے انہیں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ان امور پر جواب دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی توسیع کے عمل کو منظوری دی گئی اور ان میں کئی سڑکیوں پرانے شہر کی بھی شامل ہیں لیکن ان کے توسیعی کاموں کا آغاز تو دور ابھی تک جائیدادوںکے حصول کے سلسلہ میں اقدامات بھی نہیں کئے گئے جو کہ شہر کی ترقی میں سرکاری رکاوٹ کے مترادف ہے۔ دونوں شہرو ںمیں ترقیاتی کامو ںکی رفتار کا مشاہدہ کرنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نئے شہر کے علاقو ں میں جو کام منظور یا شروع کئے جاتے ہیں ان کی رفتار انتہائی تیز ہوتی ہے جبکہ پرانے شہر کے علاقوں میں کاموں کی منظوری کے اعلانات ہوتے ہیں لیکن ان کے آغاز میں ہی کوتاہی کی جاتی رہی ہے۔ پرانے شہر میں گذشتہ برسوں کے دوران دو اہم مقامات انجن باؤلی اور بندلہ گوڑہ سے ایرہ کنٹہ جانے والی سڑک کی توسیع کو منظوری دیتے ہوئے اسے اندرون ایک برس مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب تک ان دونوں سڑکوں پر توسیع کیلئے جائیدادوں کے حصول کا عمل بھی شروع نہیں کیا جاسکا ہے ۔بلدی عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ بجٹ کی قلت کے سبب بلدیہ کی جانب سے ان کاموں کا آغاز نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی جائیدادوں کے حصول کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ انجن باؤلی اور بندلہ گوڑہ سے ایرہ کنٹہ کے لئے جانے والی سڑکوں کی توسیع کے لئے جی ایچ ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے باضابطہ قرارد اد منظور کرتے ہوئے اس کے لئے بجٹ کی تخصیص کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال ان کاموں کا آغازنہ کئے جانے کے سبب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرانے شہر کے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی میں دی جانے والی ترقیاتی منظوریاں بھی کوئی معنی نہیں رکھتیں اور نہ ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد عہدیداروں کو ان کاموں کے آغاز نہ کئے جانے پر کوئی افسوس ہے۔