پرانے شہر کی لا اینڈ آرڈر صورتحال پر تنقید

   

ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کرنے کا اعلان ، اسمبلی میں اکبر اویسی کا خطاب

حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے پرانے شہر میں پولیس کی ظلم و زیادتی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست مفاد عامہ داخل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ پہلے پولیس فرینڈ لی تھی اب ظالم ہوگئی ہے ۔ لا اینڈ آرڈر پوری طرح ناکام ہوگیا ۔ صرف ایک ماہ میں 25 قتل ہوئے ۔ خواتین کی عصمت ریزی ، جرائم کے واقعات ، منشیات کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ اسمبلی میں مطالبات زر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے پرانے شہر میں پولیس کی ظلم و زیادتی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد میں جرائم کی شرح گھٹ جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ مگر اس میں سچائی نہیں ہے ۔ دو دن قبل ہی بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے قتل و غارت گری پر ایک رپورٹ پیش کی ہے پھر کل شہر میں تین قتل ہوئے ہیں ۔ لا اینڈ آرڈر پوری طرح ناکام ہوگیا ہے ۔ چور ، لٹیروں ، غنڈوں ، مجرموں کو پکڑنے کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دیا گیا ہے ۔ مگر یہ ٹاسک فورس پرانے شہر میں معصوم شہریوں کو مار رہی ہے ۔ ٹاسک فورس کو کریمنل نہیں دیکھائی دے رہے ہیں ۔ رات میں 10-30 بجے پرانے شہر میں لوگوں کو مار پیٹ کر دوکانات بند کرایا جارہا ہے ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ میں اسمبلی میں اَن ریکارڈ بتا رہا ہوں ہر پولیس اسٹیشن کو معمول ہے ۔ اگر مارنا ہے کریمنلس کو مارو ، عصمت ریزی کرنے والوں کو مارو ، منشیات اور گانجہ پلانے والوں کو مارو ، پولیس کمشنر آفس کے سامنے رات 12 بجے تک نیلوفر کیفے کھلی رہتی ہے ۔ شاید اس ہوٹل سے پولیس کمشنر آفیسرس کو بسکٹس وغیرہ سربراہ ہوتے ہیں۔ اس لیے اس ہوٹل کو دیر رات کھلی رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ پرانے شہر میں غریب ہوٹلوں کو طاقت کے دم پر بند کرایا جارہا ہے ۔ پرانے شہر میں پولیس کی ان ظلم و زیادتی کے خلاف وہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کریں گے اور ہریش راؤ سے اپیل کرتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ وہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں شراب پر مکمل امتناع عائد کریں ۔ گذشتہ ایک سال کے دوران جرائم کی شرح میں 9 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ حیدرآباد کے برانڈ نام کو ہرگز خراب ہونے نہیں دیا جائے گا ۔ پرانے شہر میں پولیس کا ظلم و ستم اس طرح جاری رہے گا وہ خود پرانے شہر میں ٹھہر جائیں گے ۔ لا اینڈ آرڈر خراب ہوگا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ اکبر الدین اویسی نے مرکز کے نئے کریمنل قانون کے خلاف اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے اس کو قبول نہ کرنے کا اعلان کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ مجلس پارٹی اس قانون کی شدت سے مخالفت کرتی ہے ۔۔ 2