نئے شہر کے عوام کو بہتر سفر کی سہولت ، عوام کو میٹرو ٹرین کا احساس ، پرانے شہر میں میٹرو کی شدید ضرورت
حیدرآباد۔17 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست میں جاری آر ٹی سی ہڑتال کے سبب ریاست بھر کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن شہر حیدرآباد کے عوام کے مسائل ریاست کے دیگر علاقوں کے عوام سے جدا ہیں اور شہر حیدرآباد میں بھی پرانے شہر کے عوام کے مسائل کچھ زیادہ ہی ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں آر ٹی سی کے ذریعہ سفر کرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور پرانے شہر میں بھی بسوں کے ذریعہ کالجس‘ اسکولوں اور دفاتر کو جانے والوں کے علاوہ ملازمتوں پر جانے والوں کی تعداد کافی ہے اور صبح کی اولین ساعتوں میں پرانے شہر کے علاقوں سے نکلنے والی بسوں میں بھی غیر معمولی اژدہام دیکھا جاتا ہے لیکن گذشتہ 13یوم سے جاری بسوں کی ہڑتال کے سبب پرانے شہر کے عوام کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے شہر حیدرآباد میں بسوں کی ہڑتال کے سبب پیداشدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے حیدرآباد میٹروریل کی جانب سے اضافی ٹرینیں چلانے کے علاوہ اوقات کار میں تبدیلی لاتے ہوئے نئے شہر کے عوام کیلئے تو بہتر ٹرانسپورٹ نظام کا انتظام کردیا اور انہیں کچھ اضافی خرچ کے ساتھ ہی سہی لیکن متبادل سہولت فراہم کردی گئی لیکن پرانے شہر کے عوام کو میٹرو ریل کی ضرورت کا ہڑتال کے اس دورمیں انداز ہ ہورہا ہے ۔ پرانے شہر کے عوام کو آر ٹی سی ہڑتال کے سبب ہونے والے مسائل کا احساس کسی کو نہیں ہے لیکن اب جب اسکول اور کالجس کی کشادگی ہوگی تو پرانے شہر کے عوام کو بسوں کی عدم موجودگی اور آر ٹی سی ہڑتال کا اندازہوگا۔ شہر حیدرآباد کے نئے شہر کے علاقوں اور جن علاقوں سے میٹرو کی سہولت موجود ہے ان علاقوں کے عوام کو کوئی خاص پریشانیوں کا سامنا نہیں ہے لیکن پرانے شہر کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ گھنٹوں بس کیلئے انتظار کرنے پر مجبور ہیں یا پھر آٹو اور اولا یا اوبر کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ریاست میں عوام کو دسہرہ کے دوران مسائل نہ ہوں اس کیلئے انتظامات کو یقینی بنایا گیا اور اسی طرح میٹرو ریل سے مربوط علاقوں کے عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے لیکن پرانے شہر کے عوام کی سہولت کے لئے گذشتہ 13یوم کے دوران کیا اقدامات کئے گئے اور اس سلسلہ میں حکومت سے کس نے کیا نمائندگی کی اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ پرانے شہر میں بھی اگر میٹرو کے کاموں کو روکا نہ جاتا تو آج شہر حیدرآباد کا یہ علاقہ بھی سہولتوں سے لیس اور ہڑتال کے دوران متبادل نظام کا حامل ہوتا۔