نویں اور دسویں کیساتھ چھٹویں جماعت سے کلاسیس کا آغاز، اولیائے طلبہ کی شکایتیں، ڈی ای او کی نظر
حیدرآباد: شہر حیدرآباد کے پرانے شہر میں چلائے جانے والے ان اسکولوں کے خلاف محکمہ تعلیم کی جانب سے کاروائی کی جائے گی جو کہ اب تک غیر مجاز طور پر چلائے جا تے رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے یکم فروری سے صرف نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے اسکولوں کی کشادگی کی اجازت دی گئی ہے اور ان کلاسس میں شرکت کرنے والے طلبہ کے لئے بھی لازمی ہے کہ وہ اپنے والدین اور سرپرستوں سے کلاسس میں شرکت کی اجازت حاصل کریں۔ شہر حیدرآباد کے پرانے شہر میں یکم فروری سے کئی اسکولو ںمیں 6ویں جماعت سے کلاسس کے آغاز کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان کلاسس کے انعقاد پر محکمہ تعلیم نے سخت کاروائی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی اسکول میں نویں اور دسویں جماعت کے علاوہ کسی اور جماعت کے طلبہ کی کلاسس کا اہتمام کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اسکول کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط میں درج شرائط میں والدین اور سرپرستوں کی رضامندی اس بات کی دلیل ہے کہ جو صورتحال ہوگی اس کے لئے والدین کی اپنی ذمہ داری ہوگی اوران حالات میں اگر اسکول انتظامیہ کی جانب سے نویں اور دسویں جماعت کے علاوہ اس سے چھوٹی جماعتوں کے طلبہ کے لئے اسکولوں میں باضابطہ تعلیم کا آغاز کیاجاتا ہے تو ایسے میں سخت کاروائی کی جائے گی۔ محکمہ تعلیم کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ پرانے شہر بالخصوص بہادر پورہ‘ چارمینار اور سعیدآباد منڈلوں کی گنجان آبادیوں میں موجود خانگی اسکولوں کو چلائے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور محکمہ تعلیم نے فیصلہ کیا ہے کہ جلد ہی محکمہ تعلیم کی جانب سے ان شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے پتہ لگایا جائے گا کہ کن اسکولوں میں ان غیر مجاز کلاسس کا اہتمام کیا جارہا ہے اور جن اسکولوں میں نویں اور دسویں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے لئے کلاسس کا اہتمام کیا جا رہاہے کہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی اور ضلع ایجوکیشن آفیسر کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ ضلعی کمیٹی سے اسکول کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کے سفارش کرے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے تمام ڈپٹی ای اوز کے علاوہ ایم ای اوز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے علاقوںمیں چلائے جانے والے اسکولوں کی مکمل تفصیلی رپورٹ ضلع ایجوکیشن آفیسر کے علاوہ ضلعی کمیٹی کے حوالہ کریں اور جن اسکولوں میں رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی جار ہی ہے کہ اس کا بھی مکمل جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ کی تیاری عمل میں لائیں۔