پولیس اسٹیشنوں میں اضافہ کے بعد مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو کی توقع بے فیض ثابت، شہریوںمیں تشویش
حیدرآباد ۔ 14 جون (سیاست نیوز) پرانا شہر حیدرآباد میں پیش آئے واقعات اور قتل کی وارداتیں پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ پرانے شہر میں پولیس پر لاپرواہی اور سنگین مسائل سے بے پرواہی کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ گذشتہ عرصہ میں پرانا شہر قتل کی وارداتوں سے سرخیوں میں آ گیا۔ ایک وقت تک خاموشی اور پھر مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ سے شہریوں میں خوف و ہراسانی پائی جاتی ہے۔ کل رات بہادرپورہ حدود میں پیش آئی قتل کی واردات میں ایک 35 سالہ نوجوان کا قتل کردیا گیا۔ شہر میں پولیس کی ازسرنو حدبندی کے بعد پرانے شہر کے علاقہ ساوتھ زون کو بھی تقسیم کردیا گیا اور شہر میں نئے تشکیل دیئے گئے دو زونس میں قدیم ساوتھ زون کے کچھ حصوں کو شامل کیا گیا جس کے بعد پولیس اسٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ حدود کو مضبوط کیا گیا۔ باوجود اس کے پولیس کی گرفت علاقہ میں مضبوط نہیں ہو پارہی ہے اور آئے دن قتل جیسی سنگین وارداتیں پیش آنے لگی ہیں۔ چندرائن گٹہ چارمینار اور سنتوش نگر میں داماد کے قتل کے بعد اب بہادرپورہ میں ایک نوجوان کا قتل کردیا گیا اور پولیس روایتی ضابطہ کی کارروائی کے علاوہ مجرموں کی تلاش میں جٹ گئی ہے۔ پولیس اسٹیشن کے حدود کو تقسیم کرنے اور نئے حدود کی تشکیل کے بعد لا اینڈ آرڈر پر مضبوط گرفت کی توقع ظاہر کی جارہی تھی حالانکہ گذشتہ ہفتہ ہی کالاپتھر حدود میں ساوتھ زون پولیس کی جانب سے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن منعقد کیا گیا۔ آدھی رات کو مکانات میں داخل ہونے پر اعتراض کرنے والے شہریوں کو شہر کے امن و سکون کو برقرار رکھنے کا حوالہ دیا گیا اور حالات کو پرسکون رکھنے کیلئے ایسے اقدامات کی دہائی دی گئی جس کے بعد بھی کسی بھی وقت کسی بھی علاقہ میں قتل کا واقعہ پیش آتا ہے اور پرانے شہر کے ساوتھ زون پولیس پر معاملات کی عدم یکسوئی اور معاملہ فہمی میں مشغول رہنے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ سیاسی اور فرقہ وارانہ نوعیت سے حساس ساوتھ زون میں پولیس کا یہ حال شہریوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ پرانے شہر کے بیشتر پولیس اسٹیشن میں پولیس عہدیدار اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لاپرواہی کے سنگین الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ چارمینار کے دامن میں آئے دن میوہ فروش تاجروں کے درمیان جھگڑا، بنگالیوں کے تنازعات اور سونے چاندی کے کاروباریوں کے معاملات، گھریلو تنازعات جرائم کا سبب بننے والے حالات پر نہ ہی پولیس کی نظر دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی پولیس کی ان معاملات پر گرفت پائی جاتی ہے بلکہ پولیس ایسے سنگین الزامات کا سامنا کررہی ہے کہ پولیس صرف معاملہ فہمیوں اور اپنی چاندی بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ رات دیر گئے تک ہوٹلوں اور بازاروں کا کھلا رہنا اور مخصوص مقامات پر مخصوص تجارتی اداروں کو بالخصوص ہوٹلوں کو مبینہ طور پر کھلی چھوٹ دینا پولیس کی دلچسپی کا سبب بنا ہوا ہے۔ شہر کے پولیس ڈھانچہ میں تبدیلی ازسرنو حدبندی اور بڑے پیمانے پر ایس آئی اور اے ایس آئی سطح کے عہدیداروں کے تبادلہ بھی حالات کو قابو میں رکھنے اور علاقہ میں اپنی گرفت کو مضبوط کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ کمشنر پولیس کو چاہئے کہ وہ ماتحت عہدیداروں کو پابند کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خاص توجہ کو مرکوز کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کریں جیسا کہ شہری ان سے توقع کرتے ہیں۔ع