پرانے شہر کے کئی علاقوں میں آلودہ پانی آنے کی شکایت

   

مسئلہ کے فوری حل کے لیے واٹر بورڈ سے مقامی لوگوں کی پر زور اپیل
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کے کئی علاقوں میں گذشتہ ایک ماہ سے نلوں سے آلودہ پانی آنے کی مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے اور ان کی شکایتوں پر واٹر بورڈ کے عہدیدار کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ آلودہ پانی کی سربراہی کی ایک وجہ انٹگریٹیڈ ڈرینج نیٹ ورک کا نہ ہونا ہے ۔ موریوں کے پانی کے مسلسل حد سے زیادہ بہاؤ سے کبھی یہ نل کے پانی میں مل جاتا ہے ۔ آلودہ پانی آنے کی شکایتوں کے علاقوں میں سلطان شاہی ، یاقوت پورہ ، مغل پورہ ، فلک نما ، چندرائن گٹہ ، مہدی پٹنم ، نامپلی ، ٹولی چوکی ، شیخ پیٹ اور ملے پلی شامل ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق واٹر بورڈ کے علم میں لانے کے باوجود اسے درست نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں پانی میں آلودگی کے باعث ہونے والے امراض کے کئی لوگ شکار ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ نامپلی کے ساکن انیل نیلم نے کہا کہ ہمارے یہاں نل سے بدبو دار آلودہ پانی آرہا ہے ۔ واٹر بورڈ کے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں توجہ دلانے کے باوجود اسے درست نہیں کیا گیا ، آلودہ پانی کے مسئلہ کو محمد احمد نے سوشیل میڈیا پر نمایاں کیا ہے جنہوں نے پینے کے پانی کی سربراہی کے نل سے حاصل کئے گئے آلودہ پانی کی ایک تصویر اپ لوڈ کی ہے ۔ اس پوسٹ میں کہا گیا کہ سلطان شاہی ، مغل پورہ ، شاہ علی بنڈہ اور اطراف کے علاقوں میں اس طرح کا پانی آرہا ہے ۔ انہوں نے واٹر بورڈ سے اس مسئلہ کو جلد حل کرنے کی درخواست کی ۔۔