پراپرٹی ٹیکس کے حصول کیلئے شہر کی نئی عمارتوں پر بلدیہ کی توجہ

   

آمدنی میں اضافہ کی مساعی، سالانہ 11 ہزار مکانات کی پرمیشن
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کی مہلت کے 31 مئی کو اختتام کے بعد ایسی عمارتوں پر توجہ مرکوز کی ہے جن کا پراپرٹی ٹیکس کے لئے اسسمنٹ نہیں کیا گیا ۔ کارپوریشن کی آمدنی میں اضافہ کے لئے عہدیداروں نے اسسمنٹ کے نئے طریقہ کار کو قطعیت دی ہے جس کے تحت شہر کے تمام زونس میں ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی جائے گی جن سے ابھی تک پراپرٹی ٹیکس وصول نہیں ہوا۔ جی ایچ ایم سی کے ٹاؤن پلاننگ شعبہ کی جانب سے سالانہ 10,500 تا 11,000 بلڈنگ پرمیشن جاری کئے جاتے ہیں۔ سرکل زون اور ہیڈ آفس کی سطح پر یہ پرمیشن دیا جاتا ہے ۔ اجازت نامہ کے حصول کے بعد ایک تا تین سال میں عمارت کی تعمیر مکمل کرلی جاتی ہے جس کے بعد بلدیہ کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔ کارپوریشن نے بعض رعایتوں کے ساتھ پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ارلی برڈ اسکیم کے تحت 31 مئی تک مہلت دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں تعمیر ہونے والی نئی عمارتوں پر کارپوریشن نے توجہ مرکوز کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمارتوںکی تعمیر کے بعد کئی مالکین نے پراپرٹی ٹیکس اسسمنٹ نہیں کرایا ۔ بلڈنگ کی منزلوں اور مکمل رقبہ کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس کا تعین کیا جاتا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کے کئی علاقوں میں ہمہ منزلہ عمارتیں اور رہائشی اور کمرشیل کامپلکس تعمیر کئے گئے ۔ بلدیہ سے اکوپینسی سرٹیفکٹ حاصل کرنے کے بعد عمارت خود بہ خود پراپرٹی ٹیکس کے دائرہ میں شامل ہوجاتی ہے ۔ عہدیداروں کی ٹیمیں دورہ کرتے ہوئے نو تعمیر شدہ عمارتوں کے اسسمنٹ کی جانچ کریں گی۔ گزشتہ سال کورونا لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے جی ایچ ایم سی کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایک مرحلہ پر کارپوریشن کے لئے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ادائیگی مسئلہ بن چکی تھی ۔