پربھنی۔ 12 فروری (یو این آئی) مراٹھواڑہ کے اہم شہر پربھنی میں شیوسینا نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے سید اقبال کو میئر منتخب کیا ہے ۔ جس خطے میں کبھی ’’خان چاہیے یا بان چاہیے‘‘ جیسا انتخابی نعرہ گونجتا رہا، اسی ہندوتوا نواز سمجھے جانے والے پربھنی میں مسلم میئر کو ذمہ داری دے کر شیوسینا نے اپنی ترقی پسند سمت کی سیاست کو آگے بڑھایا ہے ۔ سید اقبال نہ صرف پارٹی کے ریاست بھر میں واحد مسلم میئر بنے ہیں بلکہ ان کی تقرری نے پوری ریاست میں بحث چھیڑ دی ہے ۔ سید اقبال سیاست میں بالکل نئے ہیں اور انہیں کسی قسم کا سیاسی تجربہ حاصل نہیں تھا، اس کے باوجود انہیں بلامقابلہ میئر کے منصب پر فائز کیا گیا۔ عام آدمی کو قیادت میں لانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ٹھاکرے سینا نے انہیں موقع دیا۔ پربھنی کے رکن پارلیمنٹ سنجے عرف بندو جادھو اور رکن اسمبلی راہل پاٹل نے اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بلدیہ میں طاقت جھونک دی، جس کے نتیجے میں شہر میں شیوسینا کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ شہر کی سماجی اور جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شیوسینا نے زیادہ تعداد میں مسلم امیدوار میدان میں اتارے جس کا پارٹی کو فائدہ بھی ہوا۔ 25 کارپوریٹرس میں سے 13 مسلم امیدوار منتخب ہوئے ۔ اسی بنیاد پر اقلیتی کارپوریٹر کو میئر بنانے پر زور دیا گیا اور سنجے جادھو سمیت دیگر سینئر رہنماؤں نے سید اقبال کے نام پر مہر ثبت کی۔ سید اقبال کا کوئی سیاسی ورثہ نہیں ہے اور ان کے خاندان سے اب تک کوئی سیاست میں سرگرم نہیں رہا۔ انہوں نے صرف دو ماہ قبل شیوسینا اُدھو بالاصاحب ٹھاکرے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بلدیاتی انتخابات میں مقامی مسائل کو بنیاد بنا کر مہم چلائی اور عوام کی حمایت حاصل کی۔ وہ ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے بھائی بڑے کنٹریکٹر ہیں اور کاروبار میں مضبوط مقام رکھتے ہیں۔
اسی دوران شہر کے کئی معزز افراد سے ان کے روابط قائم ہوئے ۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران انہیں امیدوار بنانے کی تجویز سامنے آئی اور شیوسینا کی جانب سے ٹکٹ دینے کی آمادگی ظاہر کیے جانے کے بعد ان کی سیاست میں باضابطہ انٹری ہوئی۔