پردیش کانگریس کے صدر کے مسئلہ پر مصالحتی فارمولہ کی تیاری

   


وینکٹ ریڈی کو ورکنگ کمیٹی رکنیت کا پیشکش، کرسمس کے فوری بعد نئے صدر کا اعلان متوقع
حیدرآباد: کانگریس ہائی کمان تلنگانہ کے نئے صدرپردیش کانگریس کے انتخاب کے لئے قائدین میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے مصالحتی فارمولہ تیار کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ہائی کمان کے مختلف قائدین سے مشاورت کے بعد صدر کانگریس سونیا گاندھی نے مصالحتی فارمولہ کو منظوری دی جس کے تحت صدارت کے اہم دعویدار کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ایم پی کو ورکنگ کمیٹی میں شامل کیا جاسکتا ہے اور صدارت پر ریونت ریڈی کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔ مصالحتی فارمولہ پر بات چیت کی ذمہ داری جنرل سکریٹری انچارج مانکیم ٹیگور کو دی گئی ہے۔ اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو اور سرینواسن کرشنن نے بھی عہدہ کے تمام دعویداروں سے بات چیت کی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں موجود ریونت ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور اتم کمار ریڈی سے بات چیت کی گئی ۔ اس کے علاوہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا اور بعض ارکان اسمبلی سے فون پر مشاورت کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی صدارت کے لئے دو ناموں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تلنگانہ میں پارٹی کے استحکام کے لئے ہائی کمان کی نظریں ریونت ریڈی پر ہیں کیونکہ ضلع کانگریس صدور اور ریاستی یونٹ کے عہدیداروںکی اکثریت نے ریونت ریڈی کے حق میں رائے دی ہے۔ ہائی کمان اتفاق رائے سے نام کا اعلان کرنا چاہتا ہے تاکہ پارٹی میں اختلافات کی گنجائش نہ رہے۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اگر ورکنگ کمیٹی کی رکنیت سے اتفاق کرلیں تو کرسمس کے فوری بعد پارٹی نئے صدر کے طور پر ریونت ریڈی کے نام کا اعلان کردے گی ۔ عوامی مقبولیت اور بہترین مقرر کی حیثیت سے ریونت ریڈی نے اپنی شناخت بنائی ہے۔ بلدی انتخابات میں ان کے پارلیمانی حلقہ میں دو کارپوریٹرس منتخب ہوئے جبکہ حیدرآباد کے کسی بھی علاقہ سے کانگریس کو کامیابی نہیں ملی۔ بی سی اور ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین نے کھل کر ریونت ریڈی کی مخالفت کی لیکن ہائی کمان اپنے فیصلہ کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ ریاست میں پارٹی کے دوبارہ استحکام اور آئندہ اسمبلی انتخابات تک ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر تیار کرنے کیلئے ریونت ریڈی جیسے نوجوان و حرکیاتی قائد کی ضرورت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کمان پارٹی میں موجود گروہ بندیوں پر کس طرح قابو پائے گا اور نئے صدر کے اعلان کے بعد ناراض عناصر کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔