پارٹی کے مختلف گروپ سرگرم ، ہائی کمان سماجی انصاف کی بنیاد پر تقررات کے حق میں
حیدرآباد ۔9 ۔ جنوری (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان کے لئے پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹس کے ناموں کو قطعیت دینا امتحان بن چکا ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی تشکیل کے ضمن میں نائب صدور اور جنرل سکریٹریز کے تقررات عمل میں لائے گئے جبکہ ورکنگ پریسیڈنٹس کے عہدہ پر قائدین کے درمیان مسابقت کے سبب ہائی کمان نے تقررات کا عمل ٹال دیا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علاوہ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے اپنے اپنے قریبی قائدین کے نام اس عہدہ کیلئے پیش کئے ہیں۔ جنرل سکریٹری انچارج میناکشی نٹراجن نے ناموں کو قطعیت دینے کیلئے چیف منسٹر سے ایک سے زائد مرتبہ مشاورت کی لیکن ہائی کمان کی جانب سے ناموں کو منظوری نہیں دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے مختلف گروپس کی جانب سے پیش کردہ ناموں کو ہائی کمان کے پاس روانہ کرتے ہوئے قطعی فیصلہ پارٹی صدر پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ جنرل سکریٹری انچارج تنظیمی امور کے سی وینو گوپال نے تیقن دیا ہے کہ صدر اے آئی سی سی ملکارجن کھرگے سے مشاورت کے بعد ناموں کا اعلان کریں گے۔ جیسے جیسے اعلان میں تاخیر ہورہی ہے دعویداروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ کئی ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ بھی ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ کی دوڑ میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق اقلیتی طبقہ کی نمائندگی کے مسئلہ پر پارٹی میں اتفاق رائے نہیں ہو پارہا ہے ۔ ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ کے اہم دعویداروں میں ٹمریز کے صدر فہیم قریشی اور وقف بورڈ کے صدرنشین سید عظمت اللہ حسینی کے درمیان سخت مقابلہ ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کی تائید فہیم قریشی کے ساتھ ہے جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے عظمت اللہ حسینی کی نام کی سفارش کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کمان ان دونوں میں کس کا انتخاب کرے گا یا پھر کسی تیسرے شخص کو یہ عہدہ دیا جائے گا۔ ایس ٹی طبقہ میں محبوب آباد کے رکن پارلیمنٹ بلرام نائک اور ایس ٹی کوآپریٹیو فینانس کارپوریشن کے صدرنشین بلیا نائک کے درمیان مقابلہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلرام نائک کو چیف منسٹر کی تائید حاصل ہے۔ مہیلا کانگریس کے صدر سنیتا راؤ اور گدوال کی سابق ضلع پریشد چیرمین سریتا یادو نے خواتین کے زمرہ میں اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ ایس سی طبقہ نے سکریٹری اے آئی سی سی سمپت کمار اور رکن اسمبلی کے ستیہ نارائنا میں کسی ایک کے انتخاب کا امکان ہے۔ ان دونوں کو چیف منسٹر ریونت ریڈی کی تائید حاصل ہے۔ ریڈی طبقہ سے چیف منسٹر کے قریبی روہن ریڈی کے علاوہ بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی اور ورنگل کے رکن اسمبلی راجندر ریڈی کے نام زیر گشت ہیں۔ اگرچہ ان تینوں کا تعلق چیف منسٹر کے گروپ سے ہے لیکن ہائی کمان کی تائید کسے حاصل ہوگا ، اس بارے میں کہا نہیں جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ میناکشی نٹراجن سے کئی دعویداروں نے ملاقات کرتے ہوئے گزشتہ 10 برسوں کے دوران پارٹی کیلئے اپنی خدمات اور قربانیوں سے واقف کرایا ۔ ہائی کمان سماجی انصاف کو برقرار رکھتے ہوئے ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ پر ایس سی ، ایس ٹی ، ریڈی اور اقلیت کو نمائندگی دینے کے حق میں ہیں۔ ہائی کمان نے پارٹی عہدوں میں نوجوانوں کو ترجیح دینے کا اشارہ دیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مجالس مقامی کے انتخابات سے قبل ورکنگ پریسیڈنٹ کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔1
