پردیش کانگریس یا نلگنڈہ کانگریس ، ہنمنت راؤ کا سوال

   

Ferty9 Clinic

راجگوپال ریڈی کے مخالف کانگریس بیانات پر کارروائی کا مطالبہ، اعلیٰ طبقات کی برتری کی شکایت

حیدرآباد۔/20جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نلگنڈہ کانگریس میں تبدیل ہوچکی ہے اور وہاں سے تعلق رکھنے والے قائدین پارٹی کے خلاف من مانی بیانات جاری کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے مخالف کانگریس بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ راجگوپال ریڈی کے بیانات کے خلاف پارٹی کی جانب سے کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائدین اور کارکنوں میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کچھ بھی کہنے کیلئے آزاد ہیں اور اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ تلنگانہ کانگریس ہے یا پھر نلگنڈہ کانگریس۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے سوال کیا کہ راجگوپال ریڈی کو آخر کتنی مرتبہ معاف کیا جائے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اعلیٰ طبقات اور بی سی طبقات کے سلسلہ میں متضاد موقف اختیار کیا جارہا ہے۔ اعلیٰ طبقہ کے قائدین کی بیان بازی کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جبکہ بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے سروے ستیہ نارائنا اور سابق رکن اسمبلی راملو کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے معطل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمزور اور اعلیٰ طبقات دونوں کے ساتھ یکساں موقف اختیار کیا جانا چاہیئے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کانگریس میں رہ کر عہدے حاصل کئے گئے اور آج اسی پارٹی کے خلاف بیان بازی کی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی کو ٹائیٹانک کشتی سے تعبیر کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ اگر کانگریس ڈوبتی کشتی ہے تو پھر راجگوپال ریڈی نے ٹکٹ کیوں حاصل کیا۔ وہ اس بات کو فراموش کررہے ہیں کہ کانگریس کے ٹکٹ پر ہی وہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آج بھی مستحکم موقف میں ہے اور تلنگانہ اور ملک میں دوبارہ برسراقتدار آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیرا شوٹ قائدین کو ٹکٹ دیئے جانے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ راہول گاندھی نے دیگر پارٹیوں سے آنے والے پیراشوٹ قائدین کو ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن تلنگانہ میں پیرا شوٹ قائدین کو ٹکٹ دیا گیا جس کی سزاء پارٹی آج بھگت رہی ہے۔ انہوں نے اترپردیش میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے گرفتار کئے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت غیرجمہوری طریقہ سے کام کررہی ہے۔ آدی واسیوں کو قتل کئے جانے کے واقعہ کے بعد متاثرین سے ملاقات کیلئے پرینکا گاندھی جارہی تھیں لیکن انہیں روک دیا گیا اور گیسٹ ہاوز منتقل کردیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ پرینکا گاندھی قانون کے مطابق چند افراد کے ساتھ جارہی تھیں ۔ ملک میں اپوزیشن کو عوام سے ملاقات کا حق حاصل ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ پرینکا گاندھی کی جانب سے دھرنا دیئے جانے کے بعد ملک بھر میں پارٹی قائدین اور کارکنوں میں نیا جوش پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1977 ء میں کانگریس کے زوال کے بعد جس طرح ایس سی، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات نے اندرا گاندھی کو 1980 میں دوبارہ اقتدار عطا کیا تھا اسی طرح تلنگانہ اور ملک میں دوبارہ کانگریس برسراقتدار آئے گی۔