پرشانت کشور کے سابق مددگار کو کانگریس پارٹی تلنگانہ میں حاصل کرے گی

   

ریاست میں دلچسپ صورتحال کا امکان، 90 اسمبلی نشستوں پر حکمت عملی کی تیاری
حیدرآباد۔/20 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے اگرچہ تقریباً 18 ماہ باقی ہیں لیکن ٹی آر ایس اور کانگریس پارٹی نے ابھی سے انتخابی حکمت عملی کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے ملک کے مشہور انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے جواب میں کانگریس نے پرشانت کشور کے سابق مددگار کی خدمات حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ میں انتخابی تیاریوں کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر پرشانت کشور اور ٹی آر ایس کے درمیان معاہدہ طئے پاتا ہے تو ریاست میں دلچسپ صورتحال پیدا ہوگی اور انتخابی حکمت عملی کے ماہر دو دوستوں کی صلاحیتوں اور قابلیت کا امتحان رہے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس نے پرشانت کشور کی حکمت عملی کے مقابلہ کیلئے ان کے سابق مددگار کے سنیل کی مدد حاصل کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے بعض اے آئی سی سی قائدین کے ساتھ سنیل سے پہلے مرحلہ کی بات چیت مکمل کرلی ہے۔ سنیل کی زیر قیادت ماہرین کی ٹیم انتخابات تک کانگریس پارٹی کی رہنمائی کرے گی۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی جانب سے اپنی طاقت جھونک دینے کے باعث سیاسی صورتحال دلچسپ ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنیل کا شمار بھی پرشانت کشور معیار کے انتخابی امور کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ کانگریس کے ذرائع نے نئی دہلی میں حال ہی میں سنیل اور ان کی ٹیم کے ساتھ بات چیت کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ عنقریب معاہدہ پر دستخط ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آئی سی سی قائدین تلنگانہ کے علاوہ کرناٹک میں سنیل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ سنیل نے 2014 عام انتخابات میں نریندر مودی کی کامیابی کیلئے کام کیا تھا۔ اس وقت وہ پرشانت کشور ٹیم کا حصہ تھے۔ پرشانت کشور سے علحدگی کے بعد انہوں نے بی جے پی کی مدد کیلئے اسوسی ایشن بلین مائنڈس کے نام سے وار روم قائم کیا تھا۔ کانگریس قیادت چاہتی ہے کہ اسمبلی حلقہ جات کی اساس پر انتخابی حکمت عملی طئے کی جائے۔ ابتداء میں پارلیمانی حلقوں کی سطح پر حکمت عملی طئے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اے آئی سی سی قائدین نے بعد میں پارٹی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے لئے تمام 119 اسمبلی حلقوں کیلئے سروے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2023 میں کانگریس 90 نشستوں پر کامیابی کے نشانہ سے کام کا آغاز کرے گی اور 90 نشستوں کیلئے حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ 2018 میں کانگریس کو 21 نشستیں حاصل ہوئی تھیں لیکن بیشتر ارکان نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ر