پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچر یونیورسٹی کوڈرون کے استعمال کی اجازت

   

یونیورسٹی میں نئی تحقیق اور تجربات کے لیے سہولت بخش ، ڈائرکٹر جنرل سیول ایویشن سے منظوری
حیدرآباد۔ پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ زرعی یونیورسٹی کو ڈرون کے استعمال کی اجازت دی جاچکی ہے اور ڈائریکٹر جنرل سیول ایویشین کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق پروفیسر جئے شنکر یونیورسٹی نے ریاست میں زرعی سرگرمیوں کی نگرانی اور کاشت کو خراب ہونے سے محفوظ رکھنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ڈی جی سی اے میں درخواست داخل کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی تھی کہ انہیں ڈرون کے استعمال کی اجازت دی جائے جس پر ڈی جی سی اے نے تحقیق اور تحفظ کے لئے یونیورسٹی کو ایک سال کے لئے ڈرون کے استعمال کی اجاز ت دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی پودوں کی نگہداشت کے علاوہ ان میں پائی جانے والی تبدیلیوں کے علاوہ جراثیم کی نشاندہی کے لئے ڈرون کی اجازت طلب کررہی تھی اور اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد ڈی جی سی اے نے اس درخواست کو منظوری فراہم کرتے ہوئے پروفیسر جئے شنکر اگریکلچر یونیورسٹی میں ڈرون کے استعمال کی اجازت دی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے پودوں پر جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ‘ پودوں کے تحفظ ‘ باغبانی اور زراعت میں تحقیق کے علاوہ دیگر امور کی انجام دہی کے لئے ڈرون کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان ڈرون کے استعمال کی اجازت کے حصول کے بعد اگریکلچریونیورسٹی میں نئی تحقیق اور تجربات میں کافی سہولت ہوگی۔ یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ میں 5اہم فصلیں ہیں جن میں چاول ‘ کپاس‘ مسور دال‘ سویا پین اور پھلی شامل ہیں جن کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی کاشت کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات اور تحقیق کی ضرورت ہے اسی لئے زرعی یونیورسٹی نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے۔یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے بتایا کہ زرعی ترقی کیلئے ریاستی حکومت اور یونیورسٹی کی جانب سے عصری ٹکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے اور ڈرون کے استعمال کے لئے کئے جانے والے اقدامات دراصل اسی منصوبہ کا حصہ ہے جس کے ذریعہ ریاست میں زرعی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔