ایک اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ 4 ملازمین معطل، 35 امیدواروں کے داخلے منسوخ
حیدرآباد ۔ 9 جنوری ( سیاست نیوز) پروفیسر جئے شنکر زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی (زراعت) تیسرے سال کے سمسٹر فائنل امتحان کے سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کا سنگین انکشاف ہوا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب یونیورسٹی کے زیر انتظام جگتیال زرعی کالج میں ایک سرویس امیدوار (AEO) کو امتحان کے دوران نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ بعد ازاں تحقیقات میں پتہ چلا ہیکہ سوالیہ پرچے پہلے ہی لیک ہوچکے ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان سرویس کوٹہ کے تحت زیر تعلیم امیدواروں کی مدد سے یونیورسٹی کے بعض عملے نے ایک منظم انداز میں پرچہ سوالات کا افشاء کیا جو جگتیال کے علاوہ اشواراوپیٹ اور ورنگل کے زرعی کالجس کے امیدواروں کو واٹس اپ گروپس کے ذریعہ بھیجے گئے۔ اس پورے عمل میں بھاری رقم کے لین دین کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ تحقیقات کے نتیجہ میں بی ایس سی تیسرے سال کے 35 سرویس امیدواروں کے داخلے منسوخ کردیئے گئے ہیں اور انہیں محکمہ زراعت کے حوالے کردیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر الداس جنایہ کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار کے بشمول دیگر چار ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ بھارتی نارائنا بھٹ کو رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد شکوک کو تقویت ملی ہے۔ جس پر سہ رکنی کمیٹی نے تفصیلی انکوائری کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بے قاعدگیاں برسوں سے جاری تھی۔ 2014 سے 2024 کے دوران اعلیٰ عہدیداروں کی عدم موجودگی کے باعث متعدد بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں پیپر لیک اسکینڈل بھی شامل ہیں۔ اس معاملے میں سائبر کرائم پولیس میں بھی شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 2
