انجمن ترقی اردو کا قومی سمینار ، پروفیسر نسیم الدین فریس ، پروفیسر اشرف رفیع ، جناب شاہد زبیری و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔23 ؍اکٹوبر ( پریس نوٹ) ۔ پروفیسر محمد علی اثرؔ،ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک ادارے ، ایک انجمن کا نام ہے ۔ خدا وند کریم نے خداداد صلاحتیں عطا کی تھیں ۔ وہ ایک فعال اور کثیر الجہات اہلِ قلم ، کثیر التصانیف ادیب اور ایک پہلو دار شخصیت کے علاوہ ایک پُر وقار شاعر، بالغ نظر نقاداور عظیم المرتبت محقق کے حامل تھے ۔وہ نہ صرف برِصغیر ہندوپاک بلکہ ساری دنیا ئے اُردو میں اپنی محققانہ صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔اثرؔصاحب ایک ایسے ارباب ِ فن میں سے ایک ہیں جو بحیثیت ، محقق ، تنقید نگار اور شاعر اپنی امتیازی شنا خت قائم کی ۔ ان کے ادبی کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ان مجموعی خیالات کا اظہار معز ز مہمانوں نے انجمن ترقی اُردو ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کے زیر اہتمام 19؍اکٹوبر 2024 ء کو اُردو ہال حمایت نگر میں بعنوان ’’ پروفیسر محمد علی اثر کی علمی و ادبی خدمات ‘‘ پر زیر نگرانی جناب غلام یزدانی صدر انجمن ترقی اردو تلنگانہ و آندھرا پردیش و ایڈوکیٹ منعقدہ ایک روزہ قومی سمینار میں کیا ۔ ابتداء میں ڈاکٹر عتیق اقبال کنوینر سمینار وجائنٹ سکریٹری انجمن ترقی اُردو تلنگانہ و آندھراپردیش نے سمینار کے اغراض و مقاصد سے واقف کروایا ۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر اشرف رفیع سابقہ صدرشعبہ اُردو، جامعہ عثمانیہ نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر نسیم الدین فریس سابقہ ڈین و سابقہ صدر شعبہ اُردو مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی نے شرکت کی ۔ جناب شاہد زبیری جنرل سکریٹری انجمن ترقی اُردو ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش و ممتاز خاکہ نگارنے خیرمقدمی خطاب میں معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا ۔ اور کہا کہ سمینار کا مقصد پروفیسر محمد علی اثرؔ کی ادبی خدمات کو آگے بڑھاناہے ۔ انھوں نے کہا انجمن ترقی اُردو کے ذریعہ اس طرح کے مزیدسمینارس منعقد کئے جائیں گے ۔ انھوں نے دکنی زبان اور حیدرآبادی لب و لہجہ پر بھی گفتگو کی اور کچھ حیدرآباد ی زبان کے چند الفاظ کو اُجاگر کیا۔ مہمان خصوصی پروفیسر نسیم الدین فریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر محمد علی اثر کے67 تصانیف ہیں ۔ زورؔ صاحب کے بعد آپ کے نام ماہرین دکنیات میں آتا ہے ۔پروفیسر محمد علی اثر کا دکنی ادب میں عظیم کارنامہ ہے ۔ دکن کے ایک ایسے قدآورمحقق گذرے ہیں کہ انھیں اور ان کے کارناموں کو کسی بھی دور میں نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ دکنیات کے تعلق سے تلاش و تحقیق کی روایات مولوی عبدالحق، حکیم شمس اللہ قادری ، ڈاکٹرمحی الدین قادری زور ، نصیر الدین ہاشمی ، پروفیسر غلام عرفان ، ڈاکٹر حفیظ قتیل ، ڈاکٹر حسینی شاہد، اور پروفیسر سیدہ جعفر اور اُن کے رفقا ء ے قائم کی تھی ۔ عصر حاضر میں ان روایات کی پاسداری کرنے والوں میں ایک نمایاں نام پروفیسر محمد علی اثر کا ہے اور دکنی کی متعدد شاعروں کی تخلیقات کو دریافت کیا ہے ۔ڈاکٹر اودیش رانی باوا ایگزیکیٹو ممبر انجمن ترقی اُردوریاست تلنگانہ و آندھراپردیش نے کہا کہ ریسرچ اسکالرس کو دکنی پر کام کرنا چاہیے ۔ اور یہ کام یونیورسٹی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے ۔پروفیسر اشرف رفیع نے اپنے صدارتی خطاب میں سمینار کے انعقاد پر انجمن ترقی اُردو کو مبارکباد پیش کی خاص کر ڈاکٹر عتیق اقبال کی کاوشوں کی ستائش کی ۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر محمد علی اثر کا دکنی میں بہت بڑا سرمایہ ہے ۔انجمن کا ایک اقدام ہے ۔اسی طرح کے اور بھی سمینار کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے ۔ افتتاحی اجلاس کے بعد پروفیسر آمنہ تحسین کی صدارت میں ٹکنیکل اجلاس (اول )منعقدہوا جس کی نظامت محترمہ رفیعہ نوشین نے کی ۔ جسمیں ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین ، پروفیسر موسیٰ اقبال ، ڈاکٹر جعفر جری ، ڈاکٹر حمیرہ سعید، ڈاکٹر قاضی امتہ الرحمن ،محترمہ کہکشاں ناز ، ڈاکٹر نجمہ سلطانہ ، محترمہ مسرت فاطمہ ، محمد شبیر علی اور محترمہ شبانہ انجم مقالات پیش کئے ۔ جبکہ دوسرے ٹیکنیکل اجلاس کی صدارت پروفیسر موسیٰ اقبال اور نظامت ڈاکٹر نکہت آراء شاہین نے انجام دیئے ۔ جسمیں ڈاکٹرغوثیہ بانو ،ڈاکٹر محمد مصطفی عرفات ،ڈاکٹر رضوانہ بیگم ، ڈاکٹر سمینہ بیگم ،محترمہ رفیعہ نوشین ، ڈاکٹر محمد آصف ، محترمہ قریشی شائستہ ناز ، ڈاکٹر نوری خاتون نے مقالے پیش کیئے ۔صدور ٹکنیکل اجلاس اول و دوم پروفیسر آمنہ تحسین اور پروفیسر موسیٰ اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر محمد علی اثر پر جتنے بھی پیپرس پیش کئے گئے ہیں وہ بہت ہی اور معیاری ہے ۔اس کی اشاعت عمل میں لانے کی ضرورت ہے کیوں کہ سمینار میں تلخلیص پڑھی جاتی ہے جبکہ کتابی شکل میں اشاعت پر مکمل مواد منظر عام پر آتا ہے ۔ انھوں نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کی ۔آخر میں ڈاکٹر عتیق اقبال کے شکریہ پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا ۔