پرچہ سوال پرجامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر کیخلاف کارروائی

   

Ferty9 Clinic

پروفیسر اپوروآنند
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے امتحان میں مسلمانوں پر مظالم سے متعلق سوال شامل کرنا ایک پروفیسر کیلئے میگا ثابت ہوا۔ اسی طرح کے سوال پوچھنے کی پاداش میں انہیں خدمات سے بھی معطل کردیا۔ پروفیسر کے خلاف اس قسم کی کارروائی یقیناً ہندوستان بھر میں پیشہ تدریس سے وابستہ برادری میں خوف و دہشت پیدا کرنے کا باعث بنی ہے اور خاص طور پر ایک ایسے وقت جبکہ پروفیسر کو اپنے قرض کی ادائیگی پر یہ سزا دی گئی۔ آپ کو بتادیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ بی اے (آنرس) سوشل ورک کے پرچہ سوالات یا سوال نامہ میں مسلمانوں پر مظالم سے متعلق سوال شامل کرنے پر ڈپارٹمنٹ آف سوشیل ورک کے پروفیسر وریندر بالاجی سہارے کو معطل کردیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں بی اے (آنرس) سوشیل ورک کے پہلے سیمسٹر امتحان کے سوال نامہ میں مذکورہ سوال شامل کرنے کی سزا دی گئی۔ یہ سوال ہندوستان میں سماجی مسائل کے زیرعنوان پرچہ میں پوچھا گیا تھا۔ سوال میں کچھ یوں کہا گیا ’’ہندوستان میں مسلم اقلیت پر مظالم پر بحث کیجئے اور اس کیلئے موزوں مثالیں بھی پیش کریں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سوال نامہ کو سوشیل میڈیا پر بھی شیئر کیا گیا اور ان ہینڈلس کے ذریعہ شیئر کیا گیا جو ہندوتوا کی آئیڈیالوجی کے پروپگنڈہ کیلئے بدنام ہے۔ چانچہ ان کے عناصر نے اس سوال کو ایک جرم تصور کیا اور پھر یہ مطالبہ کرتے ہوئے مہم چلائی کہ جو شخص یہ سوال نامہ تیار کرنے کا ذمہ دار ہے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حکام کو اس ضمن میں کارروائی کیلئے ایک دن کا وقت بھی نہیں لگا۔ ان لوگوں نے فوری پروفیسر کی شناخت کی اور انہیں خدمات سے معطل کردیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پروفیسر کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجہ میں یہ سوال سوال نامہ میں شامل کیا گیا۔ پروفیسر کی معطلی کے بارے میں ان لوگوں کا کہنا تھا کہ مجاز حکام کی ہدایات پر سوال نامہ تیار کرنے والے پروفیسر ویریندر بالاجی سہارے کو مزید احکامات کے موصول ہونے تک معطل کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں ان کے خلاف قواعد کے مطابق پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی جائے گی۔ پروفیسر سہارے کو صرف معطلی کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جانے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ (ان سطور کے لکھے جانے تک ہوسکتا ہے کہ ان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے)۔ دوسری جانب یونیورسٹی حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ اب یہ کمیٹی کس بات کی تحقیقات کرے گی، وہ بھی حیرت کا باعث بنے گی۔ اگر ہم سوال نامہ کی بات کریں تو اس کا مقصد دراصل سوشیل ورک کے طلبہ کا امتحان لیتا تھا۔ انہیں اس بات کی توقع ہے کہ وہ معاشرہ کا قریب سے مشاہدہ کریں اور معاشرہ میں ہورہی تبدیلیوں کو اپنے طور پر سمجھ سکیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہم یہی چاہتے ہیں کہ ان (طلبہ) کی اپنی رائے ہو۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ طلبہ کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہو۔ ڈیٹا اور شواہد کے ذریعہ ان کی مدد کی جائے۔ پروفیسر سہارے ان طلبہ کیلئے ایک سوال نامہ یا پرچہ سوالات تیار کررہے تھے جنہوں نے ’’ہندوستان میں سماجی مسائل‘‘ نامی کورس کی تکمیل کی تھی۔ پروفیسر نے سوال نامہ میں جس سوال کو شامل کیا مجھ جیسے افراد بھی جنہوں نے سوشیل ورک نہیں پڑھا، اس کے طالب علم نہیں رہے اس سوال کا بہ آسانی جواب دے سکتے ہیں۔ کوئی بھی عقل مند شخص ایسے سوال میں کسی قسم کی برائی نہیں پائے گا۔ اس کے علاوہ یہ سوال ایسا ہے جس پر طلباء مباحث بھی کرسکتے ہیں۔ اگر اعتراض کرنے والوں کو یقین ہے کہ اس سوال میں خرابی ہی خرابی ہے تو وہ ببانگ دہل یہ لکھ سکتے ہیں، یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا اور نہ ہی ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پروفیسر ویریندر بالاجی کے سوال پر طلباء پر ہم نہیں ہوئے بلکہ ہندوتوا وای سوشیل میڈیا کے جنگجوؤں نے برہمی کا اظہار کیا۔ ان لوگوں کا سوال یہ تھا کہ آخر ٹیکس دہندگان کی رقم سے چلنے والی ایک یونیورسٹی ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف مظالم جیسے عنوان پر کیسے بحث و مباحث کا انعقاد عمل میں لاسکتی ہے۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جیسے ہی ہندوتوا وادی سوشیل میڈیا نے اعتراض کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حکام ان کی مصنوعی برہمی یا بناوٹی برہمی پر خود ہی ردعمل ظاہر کرنے دوڑ پڑے، باالفاظ دیگر انہیں خوش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور سوال نامہ تیار کرنے والے پروفیسر سہارے کو معطل کردیا۔ اس طرح کی حرکت کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے دو سنگین غلطیوں کا ارتکاب کیا۔ پہلی غلطی ان لوگوں نے اصول رازداری کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا کیونکہ امتحانات کا جو کام ہوتا ہے وہ انتہائی رازداری میں کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پرچہ سوالات کی تیاری وغیرہ۔ اس میں پرچہ سوالات کی تیاری سے لے کر جوابی بیاضات کی جانچ اور اس کام کا حصہ بنے اساتذہ کی شناخت سب کے سب انتہائی راز میں رکھا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ طلباء کو اچھے گریڈ میں یا نمبرات (مارکس) نہ دینے پر کیسے دھمکایا جاتا ہے کیونکہ طلبہ کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اچھے مارکس اور گریڈس کے مستحق ہیں۔ یونیورسٹی نے دوسری غلطی یہ کہ اس نے سرعام یہ اعتراف کیا کہ پرچہ سوالات میں مذکورہ سوال پروفیسر سہارے نے شامل کیا حالانکہ یہ بھی راز میں رکھا جانا چاہئے تھا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کی بڑی بدخدمتی ہے کیونکہ اساتذہ طلبہ کو زیورِ علم سے آراستہ کرنے کے پابند عہد ہوتے ہیں اور طلبہ، اساتذہ کے احترام اور ان کے عطا کئے گئے علم کو سمجھنے اور اسے آگے بڑھانے کے پابند ہوتے ہیں۔ اس واقعہ سے آج کے دور میں تعلیمی دنیا کسی حالت میں کام کررہی ہے۔ اس کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیکچرس میں کونسا جملہ یا لفظ ہمارے خلاف تشدد کا باعث بن سکتا ہے یا پھر کب ہمیں معطل اور برطرف کیا جاسکتا ہے، یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ مختلف یونیورسٹیز میں ہمارے اپنے ساتھیوں کو فوجداری مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ یہاں تک کہ بعض کو جیل بھی بھیجا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اساتذہ برادری پروفیسر سہارا کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا نہیں لیکن دوسری یونیورسٹیز کے اساتذہ کو بھی اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ اگر ہم خاموش رہتے ہیں، اس ناانصافی کے خلاف کچھ نہیں بولتے تو پھر ہمارے خلاف بھی اس طرح کی کارروائی ہوگی جس طرح پروفیسر سہارے کے خلاف کارروائی کی گئی۔