چیف منسٹر آگ سے کھیل رہے ہیں، آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی تائید: طلبہ جے اے سی
حیدرآباد۔17 اکٹوبر(سیاست نیوز) پرگتی بھون چیف منسٹر کیمپ آفس پہنچنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں طلبہ کو پولیس نے جامعہ عثمانیہ میں ہی حراست میں لے لیا اور انہیں یونیورسٹی سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔طلبہ تنظیموں کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی تائید کرتے ہوئے ان کی جانب سے معلنہ احتجاجی پروگرامس میں حصہ لیا جارہا ہے اور حکومت کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی تائید کی جارہی ہے۔طلبہ تنظیموں کی جے اے سی کے نمائندوں نے جب آرٹس کالج سے ریالی نکالنے کی کوشش کی تو انہیں سڑک پر پہنچنے نہیں دیا گیا اور طلبہ کو یونیورسٹی کے احاطہ میں ہی روک دیا گیا ۔طلبہ جے اے سی نے آج چیف منسٹر کیمپ آفس ’’پرگتی بھون‘‘ کا محاصرہ کرنے کا اعلان کئے تھے اور طلبہ کی جانب سے وزراء کے کوارٹرس واقع بنجارہ ہلز پر بھی دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے یونیورسٹی میں بھاری پولیس بندوبست کرتے ہوئے طلبہ کو حراست میں لے لیا اور اس کے علاوہ پرگتی بھون کے اطراف بھاری تعداد میں پولیس کی تعیناتی کے ذریعہ گھیراؤ کو ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی ۔محکمہ پولیس کی جانب سے بنجارہ ہلز پر واقع منسٹر کوارٹرس کے قریب بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کئے گئے تھے تاکہ طلبہ کو منسٹر کوارٹرس میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔طلبہ جے اے سی قائدین نے 19 اکٹوبرکو اعلان کئے گئے تلنگانہ بند کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ آمرانہ رویہ کے خلاف جمہوری انداز میں جاری احتجاج کو پولیس کے استعمال کے ذریعہ ناکام بنایاجارہا ہے۔طلبہ نے موجودہ تلنگانہ حکومت کو آندھرائی حکمرانوں سے بدتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک تلنگانہ کے دوران آندھرائی حکمرانوں نے بھی پولیس کا اس انداز میں استعمال نہیں کیا جس انداز میں موجودہ حکومت کی جانب سے کیا جا رہاہے۔جمہوری انداز میں کئے جانے والے احتجاج کو بھی ناکام بنانے کی کوششوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے اس بات سے چیف منسٹر بخوبی واقف ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آگ سے کھیل رہے ہیں ۔طلبہ جے اے سی قائدین نے کہا کہ ریاست کے عوام اور ملازمین کی عزت نفس کے تحفظ کیلئے وہ اس احتجاج میں شامل ہوئے ہیںاور حصول مطالبات تک وہ جدوجہد کا حصہ رہیں گے اور احتجاج میں مزید شدت پیدا کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔