نئی دہلی: اگر راہول گاندھی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انتخابی امیدوار نہیں ہیں، تو پرینکا گاندھی واڈرا انتخابات کے لیے مشترکہ اپوزیشن کے چہرے کے طور پر سب سے آگے ہیں۔ اس بات کا انکشاف سی ووٹرکی جانب سے 4,029 شرکاء کے ساتھ کروائے گئے ایک خصوصی سروے کے دوران ہوا جس میں ملک میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات پر عوامی رائے کا اندازہ لگایا گیا۔ سروے کے مطابق مجموعی طور پر ایک تہائی جواب دہندگان نے پرینکا گاندھی کو اپوزیشن کا چہرہ بننے کے لیے اپنی پسند کے طور پر منتخب کیا جب راہول گاندھی لوک سبھا کے رکن کے طور پر اپنی نااہلی کے معاملے میں سپریم کورٹ سے کوئی راحت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے بعد اے اے پی کے کنونیر اروند کیجریوال ہیں جو 13.9 فیصد جواب دہندگان کی پسند ہیں جبکہ جے ڈی (یو) کے رہنما اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور این ڈی اے کے سابق اتحادی جواب دہندگان میں سے 13.6 فیصد کی ترجیحی پسند ہیں۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی کی صدر ممتا بنرجی 10.4 فیصد جواب دہندگان کے لیے پہلی پسند ہیں۔ 30 فیصد جواب دہندگان نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر کچھ نہیں جانتے یا کچھ نہیں کہہ سکتے۔جہاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں متحدہ اپوزیشن کا وزیر اعظم کا امیدوار کون ہوگا اس پر اختلافات موجود ہیں، کانگریس لیڈروں اور حامیوں کو یقین تھا کہ اس کیلئے راہول گاندھی کا چہرہ ہے۔ خاص طور پر ان کی بھارت جوڑو یاترا کی بظاہر کامیابی کے بعد ، تاہم انہیں سورت گجرات کی ایک ٹرائل کورٹ نے ہتک عزت کے ایک مقدمے میں مجرم ٹھہرایا اور دو سال قید کی سزا سنائی۔اس کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما خطوط کے مطابق راہول گاندھی کو لوک سبھا کے رکن کے طور پر نااہل قرار دے دیاگیا اور آٹھ سال تک کسی بھی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ سزا پر روک لگانے کی ان کی اپیلوں کو گجرات میں سیشن اور ہائی کورٹ نے مسترد کردیا ہے۔16 جولائی 2023 کو راہول گاندھی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائرکی ہے جس میں ان کی سزا اور دو سال کی سزا پر روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔
