بڑے پیمانہ پر جلسہ عام کے انعقاد کی تیاریاں، تلنگانہ کی انتخابی حکمت عملی کی ذمہ داری راہول اور پرینکا گاندھی کو سونپ دی گئی
حیدرآباد ۔6۔ جولائی (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ میں اقتدار پر واپسی کی منصوبہ بندی کے تحت اسٹار کمپینر کے طور پر راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو انتخابی مہم کی ذمہ داری ہے ۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے تلنگانہ میں انتخابی اعلامیہ سے قبل مختلف طبقات کے جلسوں سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے۔ وقفہ وقفہ سے دونوں قائدین تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کیڈر کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ہائی کمان نے دیگر پارٹیوں میں موجود کانگریس کے سابق قائدین کی گھر واپسی پر توجہ مرکوز کی ہیں۔ بی آر ایس سے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کے بعد محبوب نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر جوپلی کرشنا راؤ کی گھر واپسی کی تاریخ طئے کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرینکا گاندھی 20 جولائی کو متحدہ محبوب نگر ضلع کے کولا پور میں جلسہ عام سے خطاب کریں گی اور جوپلی کرشنا راؤ اس جلسہ میں کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ پارٹی نے دونوں قائدین کی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر پارٹی کی طاقت کے مظاہرہ کے طورپر عام جلسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ سرینواس ریڈی نے کھمم کے جلسہ عام کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہوئے دو لاکھ سے زائد افراد کی شرکت کو یقینی بنایا تھا اور مقامی قائدین کے مطابق راہول گاندھی کے جلسہ عام میں چیف منسٹر کے سی آر کے جلسہ سے زیادہ عوام شریک تھے۔ جوپلی کرشنا راؤ نے محبوب نگر ضلع میں جلسہ عام کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پرینکا گاندھی نے 20 جولائی کو محبوب نگر کے دورہ سے اتفاق کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں ہائی کمان سے قطعی منظوری آئندہ دو دن میں دی جائے گی۔ جوپلی کرشنا راؤ اور سرینواس ریڈی کو بی آر ایس نے حال ہی میں معطل کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرینکا گاندھی راجستھان اور چھتیس گڑھ کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں مصروف ہیں اور وہ محبوب نگر دورہ کے بارے میں جلد ہی تاریخ کا تعین کریں گی۔ پرینکا گاندھی 8 مئی کو حیدرآباد میں نوجوانوں سے وعدوں پر مشتمل ’’یوتھ ڈکلیریشن‘‘ جاری کرچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جس طرح کھمم میں معمرین اور خواتین کے لئے 4000 روپئے وظیفہ کا راہول گاندھی نے اعلان کیا، اسی طرح محبوب نگر کے جلسہ عام میں پرینکا گاندھی بھی بعض اعلانات کریں گی۔ بی آر ایس میں شمولیت سے قبل کرشنا راؤ کانگریس میں سرگرم تھے لیکن انہوں نے علحدہ تلنگانہ تحریک میں اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا اور ضمنی چناؤ میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ 2012 ء کے بعد 2014 ء میں بھی وہ کامیاب رہے جبکہ 2018 ء میں کانگریس کے ہرش وردھن ریڈی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اتفاق سے ہرش وردھن ریڈی بی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ کانگریس کو امید ہے کہ سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کی شمولیت سے تقریباً 6 اضلاع میں کانگریس کا موقف مستحکم ہوگا۔ کانگریس کے انتخابی منشور کی اجرائی تک مختلف جلسہ عام میں سماج کے ہر شعبہ کے لئے وعدے اور اعلانات کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ پردیش کانگریس کمیٹی نے انتخابی منشور کا مسودہ ہائی کمان کو روانہ کیا ہے۔ر