پلاسٹک استعمال پر پابندی کے باوجو د اشیاء کی فروخت

   

عوام میں شعور بیداری مہم کے ذریعہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی نئی حکمت عملی پر عمل آوری

حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال پر عائد کی جانے والی پابندی کے باوجود شہر میں کئی مقامات پر Yous & Throw اشیاء کی فروخت اور استعمال کا سلسلہ جاری ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اس مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے عوام میں شعور بیداری مہم چلائی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے صادر کی جانے والی پالیسی کا انتظار کیا جا رہاہے اور جب حکومت تلنگانہ کی جانب سے پلاسٹک کی اشیاء کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی وضع کی جائے گی تو ریاست کی بلدیات میں اس پر عمل آوری کو یقینی بنایاجائے گا۔ مرکزی حکومت نے ملک بھر میں 2اکٹوبر کو پلاسٹک کی اشیاء کے سلسلہ میں اپنی پالیسی کا اعلان کردیا ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے بھی پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے کے سلسلہ میں نئی پالیسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس میں معمولی ترمیم کے متعلق حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جو پالیسی تیار کی گئی ہے اس کے مطابق ایک مرتبہ استعمال کرتے ہوئے ضائع کی جانے والی پلاسٹک کے استعمال پرمکمل پابندی عائد کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں مہم چلائی جا رہی ہے اور پلاسٹک کے پالی تھن بیاگ کے استعمال کو ترک کرنے کے سلسلہ میں شہریوں کو ترغیب دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود اب تک بھی شہر کے کئی مقامات پر تاجرین اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کی جانب سے پلاسٹک کی تھیلیوں کا چلن باقی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جب پلاسٹک کی تھیلیاں تیار کرتے ہوئے بازار میں لائی جا رہی ہیں تو ان کا استعمال ہوگا ہی اور اس کے استعمال کو مکمل ترک کرنے کیلئے ان تھیلیوں کی تیاری کو ہی مکمل طور پر بند کردیا جانا چاہئے ۔ شہر کے اطراف چلائے جانے والے پلاسٹک کی تیاری بالخصوص پالی تھن بیاگ کی تیاری کے کارخانوں کو جی ایچ ایم سی اور حکومت کے متعلقہ اداروں کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا رہاہے لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے جو یہ پالی تھن بیاگ بازار تک پہنچا رہے ہیں۔ تاجرین کا کہناہے کہ جب بیاگ بازار میں دستیاب ہوں گے تو گاہک بیاگ طلب کریں گے ہی اسی لئے اگر جی ایچ ایم سی کی جانب سے تاجرین کے بجائے تیارکنندگان کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور پلاسٹک کے استعمال میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جائے گی۔