پلاسٹک کی اشیاء پر آئندہ ماہ سے پابندی، صنعت کاروں کو احکام کی اجرائی

   

حکومت کے فیصلہ سے پلاسٹک صنعت بحران کا شکار ہونے کا امکان، ہزارہا افراد بے روزگار ہوں گے

حیدرآباد۔19ستمبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے 2اکٹوبر 2019 سے ملک کے شہری علاقوں میں پلاسٹک کی اشیاء پر پابندی عائد کئے جانے کے سبب پلاسٹک کی صنعت میں بحران پیدا ہوسکتا ہے ۔مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے ملک بھر میں کئی صنعتیں بند ہونے کے امکانات ہیں لیکن اس فیصلہ کے متعلق صنعتکاروں کے ملے جلے تاثرات سامنے آرہے ہیں۔حکومت ایک مرتبہ استعمال کرتے ہوئے تلف کرنے والی پلاسٹک کی اشیاء کو 2اکٹوبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تمام صنعتکاروں کو احکام بھی جاری کردیئے گئے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ روزمرہ کے استعمال میں لائی جانے والی پلاسٹک کی اشیاء کو بند کرنے کے فیصلہ سے صنعت کو بحران کا سامنا رہے گا لیکن بعض صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ غیر صحتمند پلاسٹک کے استعمال کو بند کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ پلاسٹک کو تلف نہیں کیا جاسکتا اسی لئے پلاسٹک ماحولیات کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہورہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کیلئے پلاسٹک کے استعمال میں تخفیف کے فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ فیس بک نے اپنے کیمپس میں ایک مرتبہ استعمال کئے جانے والے پلاسٹک کے پانی کے بوتل استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اسی طرح ماحولیات کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کے ساتھ ساتھ متفکر کمپنیوں کی جانب سے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ سرکاری احکام کے مطابق پلاسٹک سے تیار کی جانے والی وہ تمام اشیاء جو کہ ایک مرتبہ استعمال کرنے کے بعد پھینک دی جاتی ہیں وہ مکمل طور پر بند کردی جائیں گی جن میں پارٹی میں استعمال کی جانے والی Use & Throwبرتن چمچے کے علاوہ 70 مائیکرون سے کم کی پلاسٹک بیاگ ‘ 200 ملی لیٹر کے پانی کے بوتل ‘ 200 ملی لیٹر کے مشروبات کے بوتل اور کئی اشیاء شامل ہیں جن پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔ منتخب جوائنٹ سیکریٹری تلنگانہ اینڈ آندھرا پلاسٹک مینوفیکچررس اسوسیشن جناب محمد عبدالعلیم نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں پلاسٹک کی چھوٹی ‘ اوسط اور بڑی جملہ 30 ہزار صنعتیں ہیں اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس فیصلہ سے ان پر اثر ہوگا لیکن جن صنعتوں میں قوانین کے مطابق منظورہ اشیاء تیار کی جاتی ہیں انہیں اس فیصلہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے مطابق اب 70مائیکرون سے کم کی پلاسٹک کے بیاگ کا استعمال مکمل طور پر غیر قانونی ہوجائے گا۔ انہو ںنے بتایا کہ سیاہ رنگ کی جو پالی تھن بازار میں دستیاب ہے وہ انتہائی مضر ہوتی ہے کیونکہ یہ کچہرے سے نکال کرتیار کی جاتی ہے اسی لئے اب تک 50 مائیکرون کی تھیلیوں کی وہ بھی صاف پلاسٹک سے تیار کی ہوئی ہوں ان کی اجازت تھی لیکن اب یہ بھی نہیں رہے گی۔جناب محمد عبدالعلیم نیو خان ڈائی ورک نے بتایا کہ اسوسیشن کی جانب سے عوام میں شعور بیداری پروگرام کے انعقاد کے علاوہ طلبہ میں شعور اجاگر کرنے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پلاسٹک کی معیاری اشیاء کے استعمال کو عام کیا جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے اس فیصلہ سے پلاسٹک کی صنعت میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں نوجوان بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے لیکن اگر صنعتکاروں کی جانب سے معیاری اشیاء کی تیاری عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس فیصلہ کو فائدہ مند ثابت کیا جاسکتا ہے۔ پالی تھن بیاگ تیار کرنے والے ایک صنعتکار کا کہنا ہے کہ ملک میں پلاسٹک پر پابندی عائد کئے جانے کے منفی اثرات پیدا ہوں گے کیونکہ ملک معاشی بحران کی صورتحال کا شکار ہے اور اس معاشی بحران میں اس طرح کا سخت فیصلہ حالات کو مزید ابتر بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔اسی لئے فوری طور پر اس طرح کافیصلہ صنعتکاروں کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے اس فیصلہ سے بڑے صنعتکاروں کو فائدہ حاصل ہوگا اور بڑی کمپنیاں وہ اشیاء تیار کریں گی جو کہ حکومت کی منظورہ ہیں۔ حکومت نے ابتداء میں مجموعی طور پر تمام پلاسٹک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں پانی کے بوتل بھی شامل تھے لیکن بعدازاں ایک لیٹر اور 500 ملی لیٹر کی بوتل تیار کرنے کو منظوری دے رکھی ہے۔شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے پلاسٹک صنعت کے ذمہ دار نے بتایا کہ شہر میں کئی مقامات پر غیر مجاز پلاسٹک بیاگس تیار کئے جا رہے ہیں اور ان پلاسٹک بیاگس کو باضابطہ فروخت کیا جا رہاہے اس کو روکنے کے لئے اقدامات سخت کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ حالات پیدا نہیں ہوتے کیونکہ پلاسٹک کو تلف کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور ہزاروں برس پلاسٹک موجود رہتی ہے اسی لئے پلاسٹک کے استعمال میں تخفیف اور خاص طور پر روزمرہ استعمال میں لائی جانے والی پلاسٹک کوبہتر بنایا جائے یا ان کے استعمال کو ترک کیا جائے تو ماحولیاتی صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے اور کرۂ ارض پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو روکا جاسکتا ہے۔