سرینگر: لشکر طیبہ کے ڈسٹرکٹ کمانڈر کے بشمول 5 جنگجو اور ایک فوجی جوان جمعہ کو جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں انتہا پسندوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان پیش آئے انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ سکیورٹی فورسیس نے راجپورہ علاقہ کے ایک دیہات میں ناکہ بندی کرتے ہوئے تلاشی آپریشن شروع کیا تھا کیوں کہ وہاں جنگجوؤں کی موجودگی کے تعلق سے اطلاع ملی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ آپریشن انکاؤنٹر میں تبدیل ہوگیا جب انتہا پسندوں نے سکیورٹی پرسونل پر فائرنگ شروع کردی، جنھیں جواب دینا پڑا۔ ایک فوجی فائرنگ کے ابتدائی تبادلہ میں زخمی ہوا اور دواخانہ میں جانبر نہ ہوسکا۔ پولیس عہدیدار نے کہاکہ فوری کمک علاقہ کو بھیجی گئی اور اُس کے بعد بندوق کی لڑائی میں 5 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ مہلوک انتہا پسندوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور اُن میں سے ایک نشاز لون عرف خطاب اِس تنظیم کا ڈسٹرکٹ کمانڈر تھا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجئے کمار نے کہاکہ مہلوک جنگجوؤں میں سے ایک پاکستانی تھا لیکن اُس کی پوری شناخت ابھی باقی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ آپریشن فورسیس کے لئے بڑی کامیابی ہے۔ ہانجن راج پورہ میں گزشتہ شب سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان پیش آئے تصادم میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا ۔ذرائع نے بتایا کہ ضلع پلوامہ کے انہوں نے بتایا کہ تصادم کے دوران فوج کی 44 آر آر کے دو جوان زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہوسکا ۔حکام نے علاقے میں احتیاطی طور پر موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا ہے ۔