بی جے پی حکومت اسمبلی انتخابات کے بعد پھر نئے زرعی قوانین لائے گی۔ سماج وادی پارٹی لیڈر اکھلیش کے تاثرات
لکھنؤ : سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایسا اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مودی حکومت آنے والے پنجاب اور اترپردیش اسمبلی انتخابات کے تناظر میں ہوسکتا ہے کہ متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرلے اور پھر انتخابات ہوجانے کے بعد دوبارہ نئے قوانین لے آئے۔ بی جے پی پر کارپوریٹ گھرانوں کی خدمت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایس پی لیڈر نے کہاکہ بی جے پی حکومت چند صنعتکاروں کی خدمت کی پابند عہد ہے جو پہلے ہی زرعی قوانین کی وجہ سے کافی انفراسٹرکچر قائم کرچکے ہیں۔ اکھلیش نے میڈیا والوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا : ’’ہوسکتا ہے میں آج کہہ رہا ہوں آپ سے کہ پنجاب کے چناؤ دیکھتے ہوئے، اترپردیش کے چناؤ دیکھتے ہوئے، ہوسکتا ہے کسانوں کے قانون رد کردیئے جائیں اور پھر چناؤ کے بعد نئے قانون دوبارہ آجائیں گے۔‘‘ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت اسمبلی انتخابات کے بعد زرعی قوانین پر ازسرنو عمل آوری کرے گی کیوں کہ وہ کارپوریٹ گھرانوں کی مدد کرنے کی پابند عہد ہے جنھوں نے پہلے ہی کافی رقم خرچ کرتے ہوئے انفراسٹرکچر قائم کرلئے ہیں جس کا وہ زرعی قوانین پر عمل آوری کی صورت میں فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ اکھلیش نے کہاکہ حکومت ہوسکتا ہے عنقریب یوپی میں لکھنؤ کے خوشی نگر کے نئے ایرپورٹ کو بیچ دے۔ مرکزی حکومت سب کچھ بیچنے میں مصروف ہے۔ وہ روزگار میں ریزرویشن سے بچنا چاہتی ہے اور اگر خانگی شعبہ اہم کمپنیوں کو حاصل کرلیتا ہے تو ریزرویشن کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خوشی نگر ایرپورٹ کے عظیم الشان کے افتتاح سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ اسے کسی بھی وقت بی جے پی فروخت کرنے یا خانگی شعبہ کے حوالے کرنا کا اقدام کرسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خوشی نگر ایرپورٹ پراجکٹ کا منصوبہ سماج وادی پارٹی حکومت نے پیش کیا تھا اور اس کے لئے 260 کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ بی جے پی وہی کام کررہی ہے جو اُسے آتا ہے۔ وہ دوسروں کے منصوبوں کو ہتھیاکر خود کریڈٹ لے رہی ہے۔