چنڈی گڑھ ،: پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ہفتے کے روز کہا کہ ایک عام آدمی کلینک میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت چار سے پانچ افراد کا عملہ ہوگا اور لوگوں کو 100 کے قریب طبی ٹیسٹ اور ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔مان نے یہاں فیز-5 میں عام آدمی کلینک کی ترقی کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات کہی۔ سی ایم مان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 75 ایسے کلینک 15 اگست کو 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر عوام کے لیے وقف کیے جائیں گے۔ مان نے کہا کہ اس کا مقصد ریاست کے لوگوں کو صحت کی بہترین خدمات مفت فراہم کرنا ہے۔چیف منسٹر نے کابینی وزیر برہم شنکر اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ کلینک میں جاری کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کام کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔دوسری طرف پنجاب میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی پی ایس پی سی ایل نے ہفتہ کو ہر ماہ 300 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس میں گھریلو زمرے کے ایسے صارفین کو کسی بھی قسم کی ڈیوٹی، میٹر کرایہ یا ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ دیا گیا ہے جو دو ماہ میں 600 یونٹ تک استعمال کرتے ہیں۔عام آدمی پارٹی کی قیادت والی پنجاب حکومت نے یکم جولائی سے گھریلو زمرے کے صارفین کو 300 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ایس سی، او بی سی، بی پی ایل خاندانوں اور آزاد کیٹیگری کے صارفین کو ماہانہ 300 یونٹ مفت بجلی حاصل کرنے کے لیے سیلف ڈیکلریشن فارم جمع کرانا ہوگا۔اسکیم کے مطابق اگر کوئی صارف دو ماہ میں 600 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے تو اسے پورا بل ادا کرنا ہوگا۔ تاہم، درج فہرست ذاتوں، پسماندہ ذاتوں، غربت کی لکیر سے نیچے اور فریڈم فائٹر زمرہ کے صارفین کو دو ماہ میں 600 یونٹ سے زیادہ کی کھپت کے لیے اس سے اوپر کا بل ادا کرنا ہوگا۔