عصمت ریزی کے بعد طالبہ کی خودکشی پر طلبا برہم ‘تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل
چندی گڑھ ۔ 27؍ستمبر ( ایجنسیز)جالندھر میں ہفتہ کی دیر رات لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کے احاطہ میں طلبہ نے زبردست احتجاج کیا۔ متعدد طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر کے مطابق گرلز ہاسٹل سے منسلک ایک سنگین معاملے کو لیکر طلبہ میں زبردست برہمی اورغصہ دیکھا گیا۔ میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر کیے جا رہے دعووں میں ایک طالبہ کی مبینہ عصمت دری اور اس کے بعد خودکشی کرنے کی بات کہی گئی تاہم پولیس یا یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اب تک ان دعووں کی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں اس معاملے میں ایک ملازم پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل پٹیالہ کے قریب چتکارا یونیورسٹی میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ایس ایس پی گورو تورا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک وائرل پیغام کے ذریعے ایک غیر مصدقہ واقعے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ کچھ طلبہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک طالبہ نے خودکشی کی ہے، جبکہ کچھ طلبہ نے اس کے ساتھ عصمت دری ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد لولی پروفیشنل یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف طلبہ میں غم و غصہ پھیل گیا۔ایس ایس پی گورو تورا کے مطابق اب تک پولیس کو اس واقعے کی تصدیق کرنے والا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور پولیس کے پاس کوئی شکایت بھی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے یونیورسٹی کی املاک کو بھاری نقصان پہنچایا، جس میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ شامل ہے۔ طلبہ نے نیشنل ہائی وے کو بھی گھیر لیا تھا تاہم اب ہائی وے کھول دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج میں تقریباً 2000 طلبہ نے حصہ لیا۔ احتجاج گرلز ہاسٹل کے قریب شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد طلبہ نے کیمپس میں توڑ پھوڑ کی، املاک کو نقصان پہنچایا، کھڑکیوں کے شیشے توڑے، اینٹیں اور گملے پھینکے اور احاطہ کے اندر عمارتوں کے کچھ حصوں میں آگ لگا دی۔ پولیس نے اتوار کو نامعلوم شخص کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 64 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اس کے ساتھ ہی معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے ۔