پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن سے چند قدم دور ہوٹل میں نوجوان کے قتل کی واردات

   

اضافی دہی طلب کرنے پر قاتلانہ حملہ ۔ عملہ ملوث ۔ مالکین کے رول کا بھی شبہ ۔ پولیس نے متوفی کو دواخانہ کی بجائے پولیس اسٹیشن منتقل کیا

حیدرآباد 11 ستمبر (سیاست نیوز) شہر کے پنجہ گٹہ علاقہ کی ایک ہوٹل میں نوجوان پر حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ ہوٹل میں بریانی نوش کرنے والے نوجوان نے اضافی دہی طلب کیا جو اس کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ ہوٹل عملہ نے جن میں مبینہ طور پر ہوٹل مالکین بھی شامل تھے نوجوان لیاقت پر حملہ کردیا۔ رات دیر گئے ہوٹل کا کاروبار اور پولیس کی موجودگی میں مارپیٹ تشویش کا سبب ہے۔ اطلاع کے ساتھ ہی ہوٹل میریڈین پہونچنے والی پولیس حملہ اور مارپیٹ کے دوران خاموش تماشائی بنی رہی۔ ہوٹل عملہ اور مالکین پر پولیس کی موجودگی کا کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ پولیس کو دیکھتے ہی مزید مشتعل ہوگئے جیسا پولیس خود ان کی مدد کیلئے پہونچی تھی۔ عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی کیمرے پولیس کی موجودگی اور ہوٹل مالکین سے دلچسپی کے شاہد ہیں۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ پولیس کا انتہائی افسوسناک عمل یہ رہا کہ وہ زخمی کو لے کر پولیس اسٹیشن پہونچی۔ ہوٹل میریڈین سے پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن چند قدم کے فاصلہ پر ہے۔ زخمی لیاقت کو اور ہوٹل عملہ کو پولیس اسٹیشن منتقل کرنے والی پولیس نے لیاقت کی ایک نہیں سنی۔ لیاقت درد سے تڑپ رہا تھا اور اس نے پولیس سے بار بار سانس لینے میں تکلیف اور اُلٹی کی شکایت کی، شدید درد سے پریشان لیاقت کی حالت دیکھ کر ایک سب انسپکٹر نے بجائے اس کو دلاسہ دینے اور ہاسپٹل منتقل کرنے کے شدید رسوا کرتے ہوئے گالی گلوج کی۔ جب لیاقت بے ہوش ہونے لگا تو پولیس نے اس کو ہاسپٹل منتقل کیا جہاں وہ فوت ہوگیا۔ مقامی عینی شاہدین کے مطابق جنھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی لیاقت پولیس اسٹیشن ہی میں فوت ہوگیا۔ لیاقت پر ہوٹل میں حملہ کا سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگیا ۔ جھگڑے کا نظارہ کرنے اور اس واقعہ کی اطلاع پر عوام کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں لڑائی جھگڑے کی یہ نئی بات نہیں ہے۔ اس ہوٹل کے سبب علاقہ میں ٹریفک جام کا بھی سنگین مسئلہ ہے اور آئے دن کسی نہ کسی جھگڑے کی اطلاع ملتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق لیاقت الدین صدیقی جو مغل پورہ علاقہ کے ساکن عمادالدین صدیقی کا بیٹا تھا، پیشہ سے رئیل اسٹیٹ تاجر بتایا گیا ہے۔ لیاقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بنڈلہ گوڑہ میں رہتا تھا۔ لیاقت کی شادی 2017 ء میں مریم بیگم سے ہوئی تھی اور ان کے تین بچے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے۔ کاروبار کے سلسلہ میں لیاقت کل رات پنجہ گٹہ پہونچا اور میریڈین ہوٹل میں کھانا کھارہا تھا۔ لیاقت نے اضافی دہی طلب کیا جس پر ہوٹل کے عملہ اور لیاقت میں بحث و تکرار شروع ہوئی۔ کئی مرتبہ آواز دینے پر عملہ نے لیاقت کی بات کو اَن سنا کیا اور بحث و تکرار کے بعد جھگڑا کرکے ہوٹل کا عملہ لیاقت پر ٹوٹ پڑا اور اس حملہ میں مبینہ طور پر ہوٹل مالکین شامل تھے۔ تاہم پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ رکن کونسل مرزا رحمت بیگ اطلاع ملنے پر پنجہ گٹہ پہونچے اور زخمی کو ہاسپٹل منتقل کروانے کی کارروائی کو انجام دیا۔ رحمت بیگ نے پولیس کے رویہ پر افسوس ظاہر کیا اور متوفی لیاقت الدین صدیقی سے انصاف کا مطالبہ کیا اور انصاف دلانے کا تیقن دیا۔ لیاقت الدین صدیقی کی میت کے پوسٹ مارٹم اور نعش کو ان کے افراد خاندان کے حوالے کرنے اور پولیس میں شکایت درج کرنے اقدامات کئے ۔ متوفی لیاقت الدین صدیقی کی میت کو ان کے آبائی مکان مغل پورہ والٹا ہوٹل علاقہ منتقل کیا گیا۔ اس سلسلہ میں اے سی پی پنجہ گٹہ موہن کمار نے بتایا کہ لیاقت الدین صدیقی کی موت کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور حملہ میں ہوٹل مالکین ملوث ہونے کے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لیاقت پر حملہ کرنے والوں کی شناخت جاری ہے اور ہوٹل مالکین کے رول پر بھی تحقیقات کی جائیں گی اور کسی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ تاہم انھوں نے پولیس کی لاپرواہی اور لیاقت سے بدسلوکی کے معاملہ میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔ پنجہ گٹہ پولیس مصروف تحقیقات ہے۔