پندرہ ہزار شادیاں ملتوی ، پانچ ہزار سے زائد شادی خانے بند

,

   

Ferty9 Clinic

پجاریوں ، قاضیوں کو کئی ہزار کروڑ کا نقصان ، مزدور روٹی روزی سے محروم
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : لاک ڈاؤن کے باعث گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 15 ہزار سے زائد شادیاں ملتوی ہوگئی ہیں ۔ 5 ہزار سے زائد شادی خانے بند ہوگئے ہیں ۔ پجاریوں کے بشمول قاضی و نائب قاضیوں کو کئی ہزاروں کروڑہا روپیوں کا نقصان ہوگیا ہے ۔ شادی خانوں میں کام کرنے والے مزدور اور بیانڈ باجے والے بھی بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ کیٹرینگ کی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں ۔ شادی کا مطلب صرف دو خاندانوں میں رشتہ ہی نہیں ہے ۔ اس سے روزگار اور لاکھوں روپئے کی تجارت بھی جڑی ہوئی ہے ۔ ایک شادی پر کئی غریب خاندانوں کے زندگیوں کا بھی انحصار ہے ۔ شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے کئی اقسام کے کپڑے خریدے اور سلائے جاتے ہیں ۔ شادی خانوں کی سجاوٹ ، شادی خانوں میں کام کرنے والے کئی مزدور ، کیٹرینگ اور پکوان کے لیے علحدہ مزدور ہوتے ہیں ۔ شادی کی بارات اور بیانڈ باجہ ، آرکسٹرا ، غزلیات وغیرہ کے پروگرامس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ شادی بیاہ سے جڑے ہوئے اور بھی کئی کام ہوتے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے باعث ساری سرگرمیاں ختم ہوگئی ہیں ۔ تجارتی ادارے بند ہونے سے نہ صرف تاجرین کو نقصان ہورہا ہے بلکہ ہزاروں مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں ۔ ایک شادی سے کئی غریب خاندان کے چولھے جلا کرتے تھے ۔ لاک ڈاؤن سے جہاں کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے وہیں لاکھوں لوگ بیروزگار بھی ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں ۔ اکثر ماہ مارچ سے مئی تک 2 ماہ کے دوران جو بھی شادیاں ہوتی تھیں اس سے ایک سال کا لگ بھگ کاروبار ہوتا تھا ۔ سونا ، چاندی ، کپڑے ، فرنیچر جیسی اشیاء اس سیزن میں ہی زیادہ فروخت ہوا کرتی تھیں ۔ لاک ڈاؤن کے باعث تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں گذشتہ سال انہی دنوں میں تقریبا 13 ہزار شادیاں انجام پائی تھیں ۔ جاریہ سال 15 ہزار شادیاں انجام پانے کی توقع تھی تاہم لاک ڈاؤن کے باعث یہ شادیاں ملتوی ہوگئی ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا 2 لاکھ مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں ۔ شادی بیاہ کی تقاریب ملتوی ہوجانے کی وجہ مختلف اقسام کے پکوان کرنے والے کیٹرینگ ادارے اور اس کے تحت کام کرنے والے مزدور کو بھی کوئی کام کاج نہیں ہے ۔ ساتھ ہی پھولوں کے تاجرین بھی لاک ڈاؤن کا بہت زیادہ اثر پڑا ہے ۔ شادی بیاہ کی تقاریب کے لیے کم از کم تین ماہ قبل ہی شادی خانے بک کیے جاتے تھے ۔ ایک شادی خانے کا کم از کم 2 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ میں بکنگ کیے جاتے تھے جو شادی خانے پہلے بک کئے گئے تھے لاک ڈاؤن کے باعث تمام بکنگ منسوخ کردئیے گئے ہیں ۔ کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے جو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے ۔ اس کا شادیوں اور اس سے جڑی انڈسٹری پر بہت بڑا اثر پڑا ہے ۔۔