پنشن میں کٹوتی کے مسئلہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں سماعت

   

درخواست گزاروں کو اپیل میں تمام کی اجازت، آئندہ ہفتے دوبارہ سماعت
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرس کے وظیفے میں کٹوتی کا حکومت کو اختیار دیتے ہوئے جاری کردہ آرڈیننس کے بعد ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں نے اپنی اپیل میں تبدیلی کی اجازت طلب کی ہے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ پر پنشن میں کٹوتی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت میڈیکل ایمرجنسی اور دیگر حالات میں تنخواہوں اور پنشن کو روکنے کا حکومت کو حق حاصل ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں اپنی اپیل میں تبدیلی کرنا چاہیں گے کیوں کہ آرڈیننس کی اجرائی سے حکومت نے صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنچ نے درخواست گزاروں کے وکلاء کو اپیل میں ترمیم کی اجازت دیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت 24 جون کو مقرر کی ہے۔ اسی دوران ملازمین اور ٹیچرس کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اجلاس کی تیاریاں شروع کردی ہیں تاکہ تنحواہں اور پنشن میں کٹوتی کے مسئلہ کا جائزہ لیا جاسکے۔ آفات سماوی اور پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کی صورت میں حکومت تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی کو روک سکتی ہے۔ حکومت بعض محکمہ جات جیسے پولیس، ڈاکٹرس اور سینیٹیشن ورکرس چھوڑکر دیگر محکمہ جات کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جارہی ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے 50 فیصد کی کٹوتی کی جارہی ہے جبکہ آل انڈیا سرویس عہدیداروں کی تنخواہوں میں 60 فیصد کی کٹوتی کی گئی۔ عوامی نمائندوں بشمول چیف منسٹر، وزراء، ارکان مقننہ، مجالس مقامی کے نمائندوں، میئرس اور صدور نشین کی تنخواہوں میں 75 فیصد کی کٹوتی کی جارہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آرڈیننس کو آئندہ اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ قواعد کے مطابق آرڈیننس کو اندرون 6 ماہ قانون کی شکل دینے کے لیے اسمبلی میں پیش کرنا ضروری ہے۔