پنچایت انتخابات میں جنگائوں حلقہ پربی آرایس کا غلبہ

   

Ferty9 Clinic

کانگریس میں گروپ بندیوںکی وجہ سے پارٹی کونقصان ‘13آزادسرپنچ بھی منتخب
جنگائوں۔25دسمبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)جنگائوںا سمبلی حلقہ جو دوضلعوں پرمشتمل ہے جس میں جنگائوں ضلع اور سدی پیٹ ضلع ہیں جنگائوں اسمبلی حلقہ کے تحت جملہ8منڈل ہیں جس میں جنگائوں اسمبلی حلقہ کارکن اسمبلی بی آرایس پارٹی کا ہے ۔جنگائوںمنڈل‘بچناپیٹ ‘نرمٹہ ‘تری گوپلا‘ یہ منڈل جنگائوں ضلع کے تحت ہیں۔ اس کے علاوہ (مدور‘چیریال ‘کمرویلی ‘دھول مٹلہ منڈل سدی پیٹ ضلع کے تحت ہیں۔جنگائوںا سمبلی حلقہ کے تحت جملہ 131گرام پنچایت کے سرپنچ آتے ہیںجس میںبی آرایس پارٹی کے 65‘کانگریس پارٹی کے46‘بی جے پی پارٹی کے 6‘سی پی ایم پارٹی کا ایک ‘ آزاد13سرپنچوں نے کامیابی حاصل کی ۔ جس میںجنگائوں اسمبلی حلقہ سے بی آرایس پارٹی کے سرپنچوں نے کانگریس پارٹی کے بہ نسبت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ جنگائوں میں رکن اسمبلی پلاراجیشورریڈی بی آرایس کے رہنے کی وجہ سے یہاں پرانہوںنے اپنی طاقت اور پیسوں کازور لگاکراپنی پارٹی کے سرپنچوںکو اکثریت سے کامیابی دلوائے ۔ بتایاجاتا ہے کہ انہوںنے ان انتخابات میں منظم منصوبہ بندی اور انتخابی مہم زوروشور سے چلاکرا پنے امیدواروں کو کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیاجس کی وجہ سے پنچایت کے سرپنچ انتخابات میںبی آرایس کواکثریت حاصل ہوئی ہے ۔ جنگائوں اسمبلی حلقہ کے تحت مدور‘چیریال ‘ کمرویلی ‘ دھول مٹلہ منڈل سدی پیٹ ضلع کے تحت ہیںجہاں پرسابق وزیرہریش رائوکااثرکامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیا۔گرام پنچایت کے سرپنچوں کے انتخابات میں جنگائوں اسمبلی حلقہ پر بی آرایس پارٹی کاغلبہ حاصل رہا جس کی وجہ سے سرپنچوںکی بڑی تعداد نے کامیابی حاصل کی ۔جنگائوںمیں کانگریس پارٹی رکن اسمبلی نہ ہونے کے علاوہ یہاں پرگروپ بندیوںکی وجہ سے اورانتخابی مہم کے صحیح طورپرنہ چلانے اوریہاںپرپیسہ نہ خرچ کرنے کی بناء اورامیدواروں کو کانگریس ٹکٹ نہ ملنے پرریبل کھڑے رہنے کی وجہ سے بھی کافی نقصان کا اثرہوا۔دوسری طرف بی آرایس پارٹی کواکثریت سے سرپنچوںمیں کامیابی حاصل کرنے پررکن اسمبلی جگائوںپلا راجیشور ریڈی اورپارٹی کارکنوں نے مسرت کا اظہارکیا۔