پنچایت انتخابات کا اعلامیہ ہائی کورٹ نے معطل کردیا

   

جگن موہن ریڈی حکومت کو راحت، الیکشن کمیشن ڈیویژن بنچ سے رجوع ہوگا
حیدرآباد۔ پنچایت انتخابات کے سلسلہ میں آندھرا پردیش اور اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے درمیان جاری تنازعہ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے حکومت کو راحت دی ہے۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے فبروری کے پہلے ہفتہ میں گرام پنچایتوں کے انتخابات سے متعلق جاری کردہ شیڈول کو معطل کردیا ہے۔ جسٹس ایم گنگا راؤ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں مثبت انداز میں جائزہ نہیں لیا ہے اور کمیشن کے شیڈول کے مطابق رائے دہی کی صورت میں کورونا ٹیکہ اندازی پروگرام متاثر ہوجائے گا۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے حکومت کی مخالفت کے باوجود پنچایت انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس پر حکومت نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے سنگل جج کے فیصلہ کو ڈیویژن بنچ پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی درخواست میں بعض سرکاری ملازمین اور ملازمین کی تنظیموں نے خود کو فریق کی حیثیت سے شامل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو چیلنج کیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ انتخابات کی صورت میں کورونا وباء کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ٹیکہ اندازی کا کام متاثر ہوگا۔ حکومت 16 جنوری سے ٹیکہ اندازی کے انتظامات بڑے پیمانے پر کئے ہیں۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعتراضات کو قبول نہیں کیا۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ حکومت کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرے۔ حکومت کی جانب سے چیف سکریٹری اور دیگر عہدیداروں کو روانہ کیا گیا تھا جنہوں نے موجودہ صورتحال میں انتخابات کی مخالفت کی تھی۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ الیکشن کمشنر رمیش کمار کے تقرر کے بعد سے حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ جگن موہن ریڈی حکومت نے آرڈیننس جاری کرتے ہوئے رمیش کمار کو عہدہ سے علحدہ کردیا تھا لیکن عدالت کے احکامات سے وہ دوبارہ عہدہ پر فائز ہوگئے۔