پنڈت نہرو اور کانگریس نے پارلیمانی جمہوریت کااحترام کیا

   

اپوزیشن کے نہ ہونے سے سیاست آمرانہ اور یکطرفہ ہوجائے گی ۔ شیوسینا ایم پی سنجے راوت
پونے 15 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) موقع پرستانہ منحرفین کے تعلق سے احتیاط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس پارٹی کی ستائش کی ہے کہ انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کا احترام کیا تھا ۔ انہوں نے موجودہ پس منظر میں اپوزیشن پارٹی کے وجود پر ہی سوال کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پارلیمانی طریقہ کار کو توڑتا ہے تو اس سے سیاست کا فن ختم ہوجائیگا اور جمہوریت بکھر جائے گی ۔ شیوسینا کے مراٹھی ترجمان اخبار سامنا میں اپنے ہفتہ وار مضمون میں پارٹی رکن پارلیمنٹ نے مہاراشٹرا میں آئندہ ماہ کے اسمبلی انتخابات سے قبل خود شیوسینا اور بی جے پی میں شمولیت کیلئے قطاریں لگانے والے موقع پرست قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے موجودہ سیاسی حالات میںاپوزیشن جماعت کے وجود پر بھی کئی سوالات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرٹھواڑہ میں پانی کی قلت بھی دفعہ 370 کو ختم کرنے کی اہمیت ہی کی حامل ہے تاہم کوئی بھی اپنی پارٹی کو اس مسئلہ کی وجہ سے نہیں چھوڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر جگہ قحط سالی ہے تب بھی بی جے پی اور شیوسینا میں دوسری پارٹیوں کے قائدین کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ سیاست ایک مختلف فن ہے لیکن اب کچھ لوگوں نے اسے آسان بنادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹیوں سے انحراف کرنے والے اپنے حلقوں کی ترقی کا عذر پیش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاست کے فن کو پارلیمانی طریقہ کار کو توڑتے ہوئے سہل بناتا ہے تو اس سے جمہوریت بکھر جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس پارٹی کے تعلق سے اختلاف رائے ہوسکتا ہے لیکن انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کا احترام کیا تھا ۔ کانگریس ہی تھی جس نے کچھ قوانین متعارف کروائے اور پارلیمانی روایات اور طریقہ کار بتائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اپوزیشن جماعت نہ رہے تو ملک کی جمہوریت کمزور ہوجاتی ہے اور سیاست آمرانہ اور یکطرفہ ہوجاتی ہے ۔