پوتن کے خلاف جنگی جرائم کی عدالتی کارروائی ہونا چاہئے: بائیڈن

,

   

یوکرین کے قصبہ بوچا میں شہریوں کی ہلاکت پر غم و غصہ کی لہر

واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنگی جرائم کے حوالے سے عدالتی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ یوکرین کے قصبے بوچا میں شہریوں کی ہلاکت پر عالمی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔بائیڈن نے پوتن کو ’’وحشی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ان کا محاسبہ کیا جانا لازم ہے‘‘۔امریکی صدر نے پیر کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمیں معلومات اکٹھا کرنا ہوں گی۔ ہمیں یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنا ہو گی جن کے ذریعہ وہ لڑائی کا سلسلہ جاری رکھے سکے۔ ہمیں تمام معلومات حاصل کرنا ہوں گی یہاں تک یہ عدالتی کارروائی واقعتا جنگی جرائم سے متعلق بن جائے‘‘۔بائیڈن نے باور کرایا کہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے سبب امریکی انتظامیہ ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کرے گی۔دوسری جانب امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلی سطح کے ذمہ دار کا کہنا ہے کہ یوکرین کے قصبے بوچا میں سامنے آنے والے مناظر جنگی جرائم کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ بوچا میں روسی افواج کے ہاتھوں جو کچھ ہوا پنٹگان کے پاس اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق موصول نہیں ہوئی ہے۔امریکی فوجی ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کے اطراف سے دو تہائی فوجی واپس بلا لی ہے۔ ان میں زیادہ تر کو بیلا روس میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ روسی صدر کیف میں داخل ہونے اور یوکرین کی حکومت کے سقوط کا ہدف یقینی بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں‘‘۔ذمہ دار کے مطابق امریکیوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں اپنی اور چھ دیگر ممالک کی جانب سے امداد یوکرین پہنچائی۔ ہتھیاروں کی دیگر کھیپیں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران میں پہنچ جائیں گی۔ یاد رہے کہ یوکرین اور روس کی جنگ سے متعلق بے شمار قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ کبھی یوکرین کے صدر زیلنسکی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ روس کے ساتھ مذاکرات مثبت ہے۔ دوسری طرف وہ مذاکرات کو مایوس کن قرار دیتے ہیں۔ اس وجہ سے صورتحال پیچیدگی کا شکار ہوگئی ہے اور سب سے زیادہ متاثرین ایسے عوام ہیں جو دونوں ممالک کی سرحدوں پر آباد ہیں چونکہ انہیں ہر آن بمباری کے ذریعہ اپنی تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔