حیدرآباد۔ تلنگانہ نے گوداوری اور کرشنا دریاوں کے پانی میں اپنے حصہ پر ایک بار پھر ادعا پیش کرتے ہوئے مرکز سے کہا ہے کہ وہ آندھرا پردیش کو پوتی ریڈی پالاو پراجیکٹ اور رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم کے تعمیری کام روکنے کی ہدایت دے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے اس سلسلہ میں مرکزی وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے سری سیلم ذخیرہ آب کا انتظامی کنٹرول فوری طور پر تلنگانہ کے سپرد کیا جانا چاہئے ۔ مرکزی وزیر کو روانہ کردہ 14 صفحات پر مشتمل مکتوب چیف منسٹر کے سی آر کے دستخط سے روانہ کیا گیا ہے اور یہ ایسے وقت بھیجا گیا ہے جبکہ دو دن میں پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر اپیکس کونسل کا اجلاس ہونے والا ہے ۔ چیف منسٹر نے متحدہ آندھرا پردیش ریاست میں علاقہ تلنگانہ سے کی جانے والی ناانصافیوں کا بھی اس مکتوب میں تفصیلی تذکرہ کیا اور کہا کہ اب تقسیم ریاست کے بعد بھی تلنگانہ سے ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے ۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ تلنگانہ نے پانی میں اپنی واجبی حصہ داری کیلئے چھ دہوں تک جدوجہد کی ہے اور اب بھی تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سات قیمتی سال ضائع ہوگئے ہیں اور تلنگانہ کو اس کا جائز حق کا پانی نہیں مل پا رہا ہے ۔ چیف منسٹر نے مرکزی وزیر سے خواہش کی کہ پانی کی تقسیم کے جن مسائل کا انہوں نے مکتوب میں تذکرہ کیا ہے ان کو بھی اپیکس کونسل کے اجلاس میں شامل کیا جائے ۔ دونوں ریاستوں کے مابین آبی تنازعات کو بے معنی طوالت دینے کی بجائے حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کی یکسوئی کیلئے آگے آئے ۔ اس کیلئے ٹریبونل میں سرگرم رول ادا کیا جانا چاہئے ۔