’پوری دنیا مل کر بھی آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکتی ’ : محسن رضاعی

,

   

‘حملہ آوروں کے پاؤں کاٹ دیں گے ‘ ایران نے کسی دشمن کے آگے سر نہیں جھکایا ۔ کرنل ذوالفقاری کا انتباہ
تہران: 2 اپریل ( یو این آئی ) ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضاعی نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کنٹرول کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو خبردار کر دیا ہے۔ایک حالیہ انٹرویو میں محسن رضاعی نے واضح کیا کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز بند تو کر سکتا ہے، مگر پوری دنیا بھی جمع ہو جائے تو اسے دوبارہ نہیں کھول سکے گی۔ کسی بھی جہاز کو اس تنگ گزرگاہ سے گزرنے اور مڑنے میں 7 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں، جس دوران وہ مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہوتا ہے۔ ایران کا جغرافیائی محل وقوع اسے اس راستے پر مستقل بالادستی فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف جہاں عسکری قیادت سخت لہجہ اپنائے ہوئے ہے، وہیں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے مفاہمت کا پیغام دیا ہے۔”ایرانی عوام امریکہ، یورپ یا اپنے پڑوسیوں سمیت کسی بھی قوم کے خلاف دشمنی کے جذبات نہیں رکھتے۔ ہم نے کبھی کسی جنگ میں پہل نہیں کی، بلکہ ہمیشہ حملوں کا حوصلے سے جواب دیا ہے۔ایران امریکی شہریوں سے کوئی بیرونی دشمنی نہیں رکھتا۔ ایران کو عالمی امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اس نے صرف اپنی خود مختاری کے دفاع میں اقدامات اٹھائے ہیں۔اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے ، جس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی عسکری اور پارلیمانی قیادت نے واشنگٹن کو سخت ترین وارننگ جاری کی دی ہے ۔ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج دفاعِ وطن کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا”کسی بھی جارحیت کی صورت میں حملہ آوروں کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے کبھی کسی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔کرنل ذوالفقاری نے امریکی صدر کے بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور واضح کیا کہ ایران کے دشمنوں کے لیے آبنائے ہرمز کے راستے بند رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے اپنے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہااگر خطے میں میری ٹائم قوانین یا نظام کی تبدیلی کی بات ہے ، تو ٹرمپ کا ‘رجیم چینج’ کا خواب پہلے ہی چکنا چور ہوچکا ہے ۔آبنائے ہرمز دوبارہ کھلے گی، لیکن وہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے نہیں ہوگی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کے ان تند و تیز بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں بحری گزرگاہوں کے کنٹرول اور امریکی مداخلت کے حوالے سے کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے ، جس کے اثرات عالمی تیل کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔