ایس ایم بلال
حیدرآباد ۔ /6 اگست ۔تشکیل تلنگانہ کے بعد محکمہ پولیس کو مستحکم کرنے اور عصری بنانے کی غرض سے حکومت کی جانب سے کئی ایسے اقدامات کئے گئے تھے جس میں پولیس اسٹیشن کو ہر مہینے اخراجات کیلئے رقم دی جارہی تھی ۔ حیدرآباد سٹی پولیس کے تمام پولیس اسٹیشن کو ہر ماہ 75 ہزار روپئے بطور خرچ دیئے جاتے تھے لیکن گزشتہ 3 مہینوں سے اس رقم کی اجرائی بند کردی گئی ہے ۔ اخراجات کی رقم کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں پولیس اسٹیشن کے انسپکٹران تفکرات کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اس رقم کو متعلقہ انسپکٹر پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والے اخراجات کیلئے استعمال کرتے تھے لیکن اچانک مئی کے مہینے سے اس رقم کو بند کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں پولیس اسٹیشن کے اخراجات کیلئے متعلقہ اسٹیشن ہاوز آفیسر کو دشواریوں کو سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ سابق میں پولیس اسٹیشن کے اخراجات کیلئے علاقہ سے بعض اسپانسرس کو منتخب کیا جاتا تھا اور اسٹیشنری اور دیگر اخراجات سے نمٹا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ ڈائرکٹر جنرل پولیس مسٹر مہندر ریڈی جو سابق میں پولیس کمشنر حیدرآباد رہ چکے ہیں کے دور میں پولیس اسٹیشن کے اخراجات کیلئے اسپانسرس کا استعمال اور معمول کی وصولی پر مامور کلکٹرس کو برخواست کردیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی 75 ہزار کی رقم کو استعمال کرنے پر زور دیا گیا تھا ۔ غیر مجاز طور پر علاقہ کے تجارتی اداروں بشمول ہوٹلس، بار، ریسٹورنٹس وغیرہ سے رقم کی وصولی سے پولیس اسٹیشن کے اخراجات چلانے پر مہندر ریڈی نے سخت انتباہ دیا تھا اور اس کے باوجود رقم کی وصولی پر ایس بی کے ذریعہ خصوصی رپورٹ طلب کرکے متعلقہ انسپکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی تھی لیکن اخراجات کیلئے رقم اچانک بند ہونے پر پولیس عہدیدار پولیس اسٹیشن کے اخراجات سے نمٹنے کیلئے پریشان ہیں ۔ چونکہ وہ اگر علاقہ سے دوبارہ غیرمجاز طور پر رقم وصول کرکے پولیس اسٹیشن کے اخراجات چلاتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی ہے۔ شہر کے انسپکٹران میں رقم کی عدم فراہمی پر ناراضگی پائی جاتی ہے اور حیدرآباد پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر ہیں ۔