سقوط حیدرآباد اور ہماری ذمہ داریاں پر جلسہ ،شرکاء کا خطاب
حیدرآباد /19 ستمبر ( پریس نوٹ ) حیدرآباد پر مسلمانوں کو جن مصائب اور آلام کا سامنا کرنا پڑا ان سے بچاجاسکتا تھا ۔ لیکن اقتدار میں انتہائی فرقہ وارانہ ذہنیت کے لوگ نے فوج کے ہاتھوں معصوم اور بے گناہ نہتے ضعیف مردوں ، نازک خواتین ، نوجوان لڑکے لڑکیوں اور بچوں پر وہ ظلم ڈھائے جس کی داستان سنانے کیلئے سندر لال کمیٹی کی رپورٹ ہی کافی ہے ۔ آج 71 سال گذرجانے کے بعد بھی مجھے وہ حالات یاد ہے ۔ وہ دن و لمحہ کس قدر خوفناک تھے ۔ تمام کا تمام گھر لوٹ لیا گیا تھا ۔ ہر طرف لاشوں کے ڈھیر تھے ۔ کیا اپنے کیا غیر ایک ماتم اور کربلا حیدرآباد کی سرزمین نے دیکھا ۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نجیب بن مجید سکریٹری امجد الدولہ سوسائٹی نے کل ڈیسنٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد کردہ پروگرام سقوط حیدرآباد ہماری ذمہ داریاں سے خطاب کر رہے تھے ۔ نجیب بن مجید نے اپنے 17 ستمبر کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال بتایا ۔ اس موقع پر قاضی محمد سراج الدین رضوی نے کہا کہ حیدرآباد پر فوج کشی جسے پولیس ایکشن کے نام سے موسوم کیا گیا تھا ۔ مسلمانوں کے قتل عام پر سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام میں لانے کا مطالبہ کیا ۔ تحقیقاتی رپورٹ کو دبا دیا گیا اور سارے انتظامی ڈھانچہ کو تہہ و بالا کردیا گیا ۔ رضوی نے رضاکاروں کو فرقہ پرست اور ہندو دشمن ثابت کرنے کی جانبدارانہ کوششوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ یاد دلایا ہے کہ رضاکاروں میں ہندو بھی شامل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا المیہ ایک امر واقعہ ہے ۔ کلیدی خطاب کرتے ہوئے محمد ہارون عثمان صدر سیوا فاؤنڈیشن نے کہا کہ پولیس ایکشن کے حالات کے بعد بھی مسلمان سنبھل نہیں پارہا ہے ۔ ان وجوہات کا پتہ لگانا سخت ضروری ہے ۔ ان حالات میں تعلیم کے ذریعہ آگے بڑھنے کی سخت ضرورت ہے ۔ صدر جلسہ صاحبزادہ نواب میر وقار الدین علی خان نے بتایا کہ میر عثمان علی خان اپنے ملک کے کسی بھی غیر مسلم کو اور مسلمانوں کو اپنی دونوں آنکھوں سے تعبیر کرتے تھے ۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ میری جدوجہد حکومت ہند سے ہے ۔ ہندوؤں سے نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ہندو بھی رضاکار تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نظام نے ہر فرقہ ، طبقہ اور مذاہب کے لوگوں کو اپنی ریاست میں بہترین مواقع فراہم کئے ۔ ڈاکٹر سید حبیب امام قادری نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ بعد ازاں جناب سردار سلیم کی صدارت میں مشاعرہ یادگار نظام ہفتم میر عثمان علی خان ہوا ۔ جس میں حیدرآباد کے معروف شعراء کرام اسلم فرشوری ، جلیل نظامی ، احمد قاسمی ، وحید پاشاہ قادری ، ڈاکٹر خواجہ فریدالدین ، صادق ، سلطان سعید نقشبندی ، قاضی اسد ثنائی شرفی ، ڈاکٹر معین افروز ڈاکٹر شکیل حیدر کانپوری ، نورالدین امیر ، میر عظمت علی عظمت ، تشکیل انور رزاقی نے کلام سنایا ۔ ناظم مشاعرہ سہیل عظیم تھے۔ پروگرام کا آغاز سہیل علی خان کی قرات کلام پاک اور عبدالقیوم علیم الہامی کی نعت سے ہوا ۔ جناب محمد واحد علی خان کنوینر اجلاس نے شکریہ ادا کیا ۔