پولیس تحقیقات کے دوران جائیداد ضبط نہیں کرسکتی

,

   

عہدیداروں کو جائیداد کی دستاویزات و کاغذات تحویل میں لینے کا اختیار : سپریم کورٹ

حیدرآباد۔/25 ستمبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے کہا کہ پولیس کو تحقیقات کے دوران غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے احکام کو برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے تاہم یہ واضح کردیا کہ اس کی رولنگ کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس حق ملکیت کے دستاویزات و کاغذات ضبط نہیں کرسکتی۔ عدالت کے احکام پولیس آفیسر کو دستاویزات کی ضبطی سے نہیں روکتے۔ غیر منقولہ جائیداد کی نوعیت اور تعداد سے ہٹ کر یہ مسئلہ مختلف ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کو سنجیوکھنہ پر مشتمل بنچ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 102 کے تحت پولیس کے اختیارات سے متعلق معاملہ کی سماعت کی اور تحقیقات کے دوران جائیداد کی ضبطی کے بارے میں پولیس کو حاصل اختیارکی وضاحت کی۔ عدالت نے ایک کیس کی تحقیقات جاری رہنے کے دوران جائیداد کی ضبطی سے متعلق بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے داخل کردہ درخواست کی سماعت کی۔ بامبے ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران جائیداد ضبط کرنے کا پولیس کو اختیار نہیں ہے۔ اس رولنگ کو جسٹس گپتا اور کھنہ کی بنچ نے جاری کیا۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 102 کوئی عام دفعہ نہیں ہے یہ دفعہ پولیس عہدیدار کو جائیداد ضبط کرنے کا اختیاردیتا ہو۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مقدمہ کی کارروائی کے دوران فوجداری عدالت میںپولیس ضبط شدہ غیر منقولہ جائیداد پیش نہیں کرسکتی۔ عدالت کے احکام کی نقل کے مطابق عملی اور قانونی طور پر زیر استعمال والی جائیداد جیسے اراضی ، پلاٹس ، رہائشی مکانات، سڑکیں یا اسی طرح کی جائیدادیں ضبط کرنے کا پولیس آفیسر کو اختیار نہیں ہے۔