پولیس تحویل میں محمد قدیر کی ہلاکت معاملہ کی سماعت

   

حکومت و ڈی جی پی کو حلفنامہ داخل کرنے ہائیکورٹ کی ہدایت
حیدرآباد۔/5 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے میدک پولیس اسٹیشن میں 16 فروری کو مسلم نوجوان محمد قدیر کی مبینہ طور پر اذیت رسانی سے موت کے معاملہ میں ڈائرکٹر جنرل پولیس اور ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے اندرون چار ہفتے حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے اس واقعہ کے بارے میں ازخود کارروائی کرتے ہوئے سماعت کی جس کے تحت کہا گیا ہے کہ میدک پولیس نے محمد قدیر کے خلاف تھرڈ ڈگری کا استعمال کیا اور وہ گاندھی ہاسپٹل میں علاج کے دوران جانبر نہ ہوسکے۔ قدیر کو سرقہ اور چین اُڑانے کے معاملہ میں 29جنوری کو گرفتار کیا گیا اور 2 فروری کو رہائی عمل میں آئی۔ قدیر کو 9 فروری کو میدک کے ایک ہاسپٹل میں شریک کیا گیا اور حالت بگڑنے پر گاندھی ہاسپٹل 12 فروری کو منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرس نے کہا کہ قدیر کے دونوں گردے متاثر ہوچکے ہیں۔ علاج کے دوران قدیر نے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا جس میں پولیس تحویل میں بری طرح مار پیٹ کا تذکرہ کیا گیا۔ قدیر کی 16 فروری کو موت واقع ہوئی۔ اخباری اطلاعات کو بنیاد بناکر ہائی کورٹ نے از خود کارروائی کرتے ہوئے پٹیشن سماعت کیلئے قبول کی جس کے بعد قدیر کی اہلیہ نے بھی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے 50 لاکھ روپئے معاوضہ کیلئے حکومت کو ہدایت دینے کی اپیل کی۔ چیف جسٹس الوک ارادھے کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے اس معاملہ کی سماعت کی اور ریاستی حکومت اور ڈی جی پی کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔