بنگلورو : بنگلور میں 22 سالہ ایک نوجوان پولیس کی ظلم و زیادتی اور مار پیٹ کا شکار ہوگیا جس کا سیدھا ہاتھ کاٹنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق مشرقی بنگلورو کے ورتھور علاقہ کے رہنے والے 22 سالہ سلمان کو جاریہ سال اکٹوبر کے اواخر میں کار بیٹری کے سرقہ کے ایک واقعہ کی تحقیقات کے ضمن میں حراست میں لیا گیا اور ورتھور پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر رکھا گیا۔ پوچھ تاچھ کے دوران پولیس کے ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اُسے بنگلور کے ایک خانگی ہاسپٹل میں شریک کیا گیا جہاں سرجری کے ذریعہ اُس کا سیدھا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اُس کا کہنا ہے کہ پولیس کی مبینہ شدید مارپیٹ سے اُس کے ہاتھ میں انفیکشن ہوگیا تھا۔ کورونا بحران کے دوران ملازمت سے محرومی کے بعد سلمان ایک چکن شاپ میں کام کررہا تھا۔ سلمان نے بتایا کہ سادہ لباس میں 27 اکٹوبر کو پولیس نے رات کے وقت اُسے اُس کے گھر کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سلمان نے بتایا کہ 31 اکٹوبر کو اُسے رہا کردیا گیا۔ وہ گھر آکر درد کم ہونے کی دوائیں لیاتاہم اُس کے ہاتھ کی تکلیف کم نہیں ہوئی اور زخم گہرا ہوگیا۔ گھر والوں نے سرجہ پورہ کے ایک ہاسپٹل سے رجوع کیا جہاں ڈاکٹرس نے کہاکہ اُس کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ گھر والوں نے تمام امکانات کا جائزہ لیا بالآخر 8 نومبر کو اِس کا آپریشن کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس وائٹ فیلڈ نے بتایا کہ اِس واقعہ کے سلسلہ میں اُنھوں نے اے سی پی سے رپورٹ طلب کی ہے۔