پولیس عہدیداروں کی مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور تنگ نظری

   

بھینسہ میں مسلم دکانداروں کے ساتھ بد کلامی پر حالات کشیدہ، اردو صحافیوں نے اے ایس پی کانتی لال پاٹل کو سنگین صورتحال سے واقف کروایا

بھینسہ۔ 24مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ حکومت ریاست کی عوام اور محکمہ پولیس میں دوستانہ ماحول کو فروغ دینے کے لئے فرینڈلی پولیس کا نعرہ دے رہی ہے لیکن بھینسہ شہر میں یہ نعرہ برعکس نظر آرہا ہے اور عوام میں پولیس کی دہشت و خوف کا عالم بنا ہوا ہے جس کی اصل وجہ پولیس عہدیداروں بالخصوص ٹی ایس ایس پی (اے آر) جوانوں کا رویہ عوام کیلئے تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے۔ تفصیلات کے بموجب گذشتہ رات رمضان کا چاند نظر آتے ہی مسلمان رمضان کی تیاریوں میں مصروف ہوکر نماز تراویح کیلئے مساجد کو روانہ ہوگئے جبکہ شہر کے قلبی مارکٹ ایریا میں چند اشیائے ضروریہ کی دکانات کھلی تھیں جنھیں رات 9 بجے سے بند کروانے کے لئے پولیس کی وجرا گاڑی کے علاوہ اے آر جوان موٹرسائیکلوں پراور پیدل گشت کرتے ہوئے بند کرانے کے دوران مسلم دکان مالکین سے سخت الفاظ و سخت انداز میں بدکلامی کی جبکہ شہر میں ٹی ایس ایس پی اے آر جوانوں کا یہ روزانہ کا معمول بن چکا ہے کہ رات 9 بجے دکانات بند کروانے کے دوران معمر اشخاص کا بھی لحاظ نہ کرتے ہوئے سخت لہجہ استعمال کررہے ہیں جس سے مسلم دکان مالکین کی دل آزاری ہورہی ہے۔ یہ معاملہ کے سبب دکان مالکین اور ٹی ایس ایس پی اے آر جوانوں میں بحث و تکرار شروع ہوگئی ۔اسی اثناء میں تقریبا رات گیارہ بجے مسجد مشائخ اور مسجد مدار خان سے شبینہ تراویح نماز کی ادائیگی کے بعد مسلمان کثیر تعداد میں شہر کے قلبی مارکٹ ایریا سے گذر رہے تھے اور معاملہ کو دیکھ کر پولیس عملہ کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسے پولیس عہدیداروں کی مسلمانوں کے تعلق سے تعصب اور تنگ نظری قرار دیا۔ اس دوران حالات کافی کشیدہ ہوگئے جس کو دیکھتے ہوئے بھینسہ کے اردو صحافیوں نے ٹی ایس ایس پی اے آر کے جوانوں کے رویہ کی سخت مذمت کی اور شہر میں امن و امان کی برقراری اور شہریوں کے تحفظ کے لیئے خدمات انجام دینے پر زور دیا اسی اثناء میں بھینسہ اے ایس پی کانتی لال پاٹل آئی پی ایس بھی مقام واقعہ پہنچ گئے جہاں برہم افراد نے گاڑی کا گھیراؤ کیا جس پر اردو صحافیوں نے تمام حالات سے اے ایس پی کانتی لال پاٹل کو واقف کروایا اور رمضان میں رات دیر گئے دیر تک بازار کی بحالی کے علاوہ ٹی ایس ایس پی اے آر جوانوں کے مسلم مخالف رویہ کو سدھارنے اور رمضان کے مقدس مہینہ میں مساجد کے اطراف پولیس سائیرن نہ بجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اردو صحافیوں نے کشیدہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے ہر ممکنہ تعاون پیش کیا ۔جبکہ کثیر تعداد میں موجود مسلم افراد نے کہا کہ پولیس عملہ خصوصا شہر کے قلبی مارکٹ علاقہ کو نشانہ بناتے ہوئے مسلم تاجرین کو شب و روز ہراساں و پریشان کرتے ہوئے مسلم دکانوں اور تاجرین کی تصویر کشی کی جارہی ہے جس سے مسلم دشمنی ظاہر ہورہی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ جبکہ گذشتہ میں پولیس کے مقامی اعلٰی عہدیداروں نے کوویڈ اور لاک ڈاون جیسی سنگین صورتحال میں بھی رمضان اور دیگر تہواروں میں ہر ممکنہ تعاون کیا لیکن شہر کے موجودہ پولیس عہدیدار من مانی کرتے ہوئے عوام پر ظلم کررہے ہیں جو شہر کے امن و سلامتی کے لئے تشویش کا باعث ہے جبکہ شہر میں کشیدہ حالات سے متعلق محمد جابر احمد نائب صدرنشین بلدیہ بھینسہ نے ضلع نرمل ایس پی کو فون پر اطلاع دیتے ہوئے تمام حالات سے واقف کروایا اور مسلم اراکین بلدیہ کا ایک وفد جس میں فیض اللہ خان فلور لیڈر بلدیہ ، امتیاز الحق ایڈوکیٹ ، محمد عامر احمد ، محمد عبدالماجد کو ضلع ایس پی سی ایچ پراوین کمار اور ضلع کلکٹر سے رمضان میں رات دیر گئے بازار بحالی کی تحریری نمائندگی کیلئے روانہ کیاجس پر ضلع ایس پی بھینسہ نے رات ساڑھے گیارہ بجے تک بازار کھلا رکھنے اجازت دی۔