پولیس نے جو کیا اچھا کیا! مسلم لڑکی فحاشہ اور لڑکے آوارہ

   

حیدرآباد ۔ پرانے شہر کے علاقہ میں پولیس کی کارروائی پر عوام میں جہاں ایک طرف برہمی پائی جاتی ہے تو وہیں دوسری طرف پولیس کو عوامی منتخب نمائندوں کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ مغل پورہ واقعہ کے بعد پولیس کی کارروائی اور اقدامات سے سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور آڈیو کال ریکارڈنگس گشت کررہی ہیں جن میں رکن اسمبلی ممتاز احمد خان کی آڈیو ریکارڈنگ موضوع بحث بنی ہوئی ہے جس میں انہوں نے مغل پورہ پولیس کی کارروائی کو حق بہ جانب قرار دیا اور ساتھ ہی گرفتار مسلم نوجوانوں کو آوارہ قرار دیا۔ برقعہ پوش لڑکی جو ہندو بہاری لڑکے کے ساتھ گھوم رہی تھی اسے بدچلن اور فحاشہ قرار دیا۔ منظر عام پر آئی آڈیو ریکارڈنگ پرانے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ اس میں ممتاز خاں سے بات کرنے والے نے ان کی خوب کھنچائی کی۔ جب ممتاز خاں نے گھر پر آنے اور آمنے سامنے بات کرنے کی بات کہی تو اس لڑکے نے ان سے کہا کہ آپ ووٹ مانگنے تو گھر آتے ہو لیکن مسئلہ بیان کرنے مجھے گھر پر آنے کے لئے کہتے ہو۔ ممتاز خاں نے اس کالر پر برہمی ظاہر کی اور نمبر ڈھونڈ کر گھر تک پہنچنے کی دھمکیاں دی اور کہا کہ میں نے اس علاقہ میں ساری زندگی گذاری ہے اور کون کیسا ہے مجھے سب معلوم ہے۔ کالر نے چپل سے مارنے کی بات پر ممتاز احمد خاں کی اور کھنچائی کردی اور کہا کہ آپ کو بات کرنے کی تک تمیز نہیں، آپ کس طرح بات کررہے ہیں۔ اس دلچسپ آڈیو کال ریکارڈنگ کا وائرل ہونا پرانے شہر میں بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے۔ کالر نے کچھ تو کام آنے اور ساتھ دینے کی درخواست کی اور کہا کہ مسلم نمائندہ ہوتے ہوئے کسی بھی معاملہ میں آگے کیوں نہیں آتے؟ یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی کا باعث ہے کہ اس طرح کی ایک اڈیو کال ریکارڈنگ منظر عام پر آئی جو مغل پورہ انسپکٹر اور کارپوریٹر کی بتائی جارہی ہے جس میں خاتون کارپوریٹر نے مسلم نوجوانوں پر پولیس مظالم کی مذمت کی اور ان کی تائید میں بات کی۔ تاہم ایک ہی جماعت سے وابستہ کارپوریٹر اور رکن اسمبلی کا علیحدہ علیحدہ موقف پرانے شہر کی عوام میں تشویش اور بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے جو ان دنوں پولیس کے مبینہ مظالم سے کافی پریشان ہیں۔