پولیس نے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا لیکن ……….

,

   

حیدرآباد ۔ /4 جنوری (سیاست نیوز) شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ہفتہ کو نکالی گئی ملین مارچ کو ناکام بنانے کیلئے حیدرآباد سٹی پولیس نے کئی ہتھکنڈے اپنائے ۔ سوشیل میڈیا کے ذریعہ پولیس نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن عوام نے اس پر توجہ نہ دیتے ہوئے رضاکارانہ طورپر ملین مارچ میں لاکھوں کی تعداد میں شامل ہوئے ۔ جمعہ کی رات سے ہی بعض پولیس عہدیداروں کی جانب سے یہ میسیج گشت کروایا جارہا تھا کہ ملین مارچ کے انعقاد کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دیئے گئے اجازت نامہ میں صرف ہزار افراد کو جمع ہونے کی اجازت ہے ۔ اتنا ہی نہیں آج صبح حیدرآباد سٹی پولیس کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ بھی ایک ایسا میسیج ٹویٹ کیا گیا جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ عوام کے تحفظ اور سلامتی کیلئے دھرنا چوک پر مظاہرے کیلئے ہزار افراد کو جمع ہونے کی اجازت ہے اور ہزار سے زائد افراد کو جمع ہونے نہیں دیا جائے گا ۔ حالانکہ اس میسیج سے عوام میں کچھ حد تک الجھن پیدا ہوگئی لیکن حیدرآبادی عوام نے کسی بھی افواہوں اور دھمکیوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے رضاکارانہ طور پر ملین مارچ میں کثیرتعداد میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا ۔ لاکھوں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آنے پر پولیس عہدیدار حیرت کا شکار ہوگئے اور یہ بھی تشویش پیدا ہوگئی کہ ہجوم کے تناسب میں پولیس کی تعداد انتہائی کم ہے ۔ شہر کے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ حیدرآباد سٹی پولیس کے کمانڈ کنٹرول سنٹر سے ملین مارچ اور اس میں شامل ہونے والے افراد پر نظر رکھی جارہی تھی ۔ حیدرآباد پولیس کے تمام شعبہ جات بشمول اسپیشل برانچ ، کمشنرس ٹاسک فورس ، سٹی آرمڈ ریزرو اور لا اینڈ آرڈر کے عملہ کو دھرنا چوک پر تعینات کیا گیا تھا ۔ سٹی پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اس پر راست نگرانی رکھے ہوئے تھے اور بالآخر ملین مارچ کامیاب اور پرامن اختتام کو پہونچا ۔ واضح رہے کہ پولیس نے اس مارچ کو ناکام بنانے کیلئے پہلے نکلس روڈ پر مارچ کے انعقاد کیلئے اجازت نہیں دی اور یہ سمجھا تھا کہ دھرنا چوک کو یہ مارچ منتقل کرنے پر عوام کی تعداد میں کمی ہوگی لیکن شہر کی تمام سڑکیں سروں کے سمندر اور ترنگوں میں تبدیل ہوگئی ۔