یومیہ متعدد میسیجس کا ذاتی جواب ، انسٹاگرام پر بھی شہرت
ایس ایم بلال
حیدرآباد /11 فبروری ۔ ملک بھر میں صرف سائبر کرائم کا بڑھتا رجحان دیکھ رہا ہے اور تلنگانہ بھی اس کے لپیٹ میں ہے ۔ ایک ایسے دور میں جہاں پر شاطر سائبر دھوکہ باز عوام کو مختلف انداز سے دھوکہ دیتے ہوئے ان کے آن لائن رقومات ہڑپ رہے ہیں اور سائبر کرائم کے خلاف حیدرآباد پولیس سے وابستہ ایک پولیس کانسٹبل محمد احمد علی عوام میں شعور بیداری کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ /30 ڈسمبر 2025 ء کو احمد علی نے سائبر کرائم کے خلاف منظم طور پر مہم چلانے کا ارادہ کیا اور اندرون چند ہفتے انہیں اطمینان بخش کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ لیک پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیس کانسٹبل محمد احمد علی جن کا تعلق 2014 ء کے کانسٹبل بیاچ سے ہے اور لیک پولیس اسٹیشن میں بلیوکولٹ پارٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے نئے سال کے بہانے سائبر دھوکہ بازی کا شکار نہ ہونے کیلئے اپنی مہم کا آغاز کیا تھا ۔ جب ’’ہپی نیو ایئر‘‘ اے پی کے(APK) فائلز سے بینک اکاؤنٹس خالی ہونے کی اسکیم کی خبر سن کر علی نے اپنی وردی پہن کر فون اٹھایا اور حیدرآبادی دوست کی طرح بات کی۔ اپنے مانوس حیدرآبادی لہجے میں شہر کو ایک مشہور دھوکے سے خبردار کیا۔ ’’کیا بول رہے ہو یار‘‘، اس نے شروع کیا، شہر کو تازہ ترین چالاکی سے آگاہ کرتے ہوئے۔ ’’ہپی نیو ایئر کے نام پر اے پی کے فائلز سے فراڈ ہو رہا ہے۔‘‘ چھ ہفتے بعد لیک پولیس اسٹیشن کے کانسٹیبل محمد احمد علی جو اپنے 9,700 سے زائد انسٹاگرام فالوورز کے درمیان @alicop کے نام سے مشہور ہیں، ایک غیر متوقع ڈیجیٹل مجاہد بن گئے ہیں۔ وہ حیدرآبادی لہجے میں سائبر فراڈ کو 60 سیکنڈز کی ویڈیوز میں کھولتے ہیں۔ علی نہ تو سائبر ماہر ہیں اور نہ ہی کوئی خصوصی سائبر کرائم اسکواڈ کا حصہ۔ لیکن وہ حسین ساگر جھیل کی گشت کرتے ہیں، جہاں امن قائم رکھتے ہیں اور جانیں بھی بچاتے ہیں۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر، اخبارات پڑھتے اور فوری میسیج کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایک نئی ذمہ داری دریافت کر لی ہے۔ ان کا طریقہ سادہ ہے، سائبر فراڈ کی کوئی خبر دیکھیں، تکنیکی اصطلاحات ہٹائیں اور حیدرآباد کی گلیوں و چائے کی دکانوں والے لہجے میں سمجھائیں۔ کوئی فلیشی ایڈٹنگ نہیں، نہ اسٹوڈیو لائٹس۔ بس ایک کانسٹیبل وردی میں، پڑوسیوں سے بات کرتا ہوا۔ حیدرآبادی لہجہ کا انتخاب اتفاقی نہیں۔ علی کا سائبر کرائم کا علم کتابی نہیں، بلکہ تجرباتی ہے۔ ایک مخصوص سائبر کرائم فراڈ کے بارے میں شعور بیداری کا ویڈیو عام کرنے پر سینکڑوں میسیجز آتے ہیں۔ ’’لوگ مدد مانگتے ہیں‘‘ علی بتاتے ہیں۔ ’’کل کوئی بولا، پہلے 1,000 روپے ٹرانسفر کرو، پھر 2,000۔ میں کہتا ہوں یہ سائبر کرائم ہے، فراڈ ہے۔ اجنبی کو پیسے نہ بھیجو۔‘‘ علی روزانہ 10 سے 15 میسیجز کا ذاتی جواب دیتے ہیں۔ ہر عمر کے لوگ مشکوک ٹیکسٹس، انجان نمبروں سے کالز اور مدد کی درخواستوں کے اسکرین شاٹس بھیجتے ہیں۔ وہ شکایات درج کرانے اور اگلے اقدامات میں بھی رہنمائی کرتے ہیں۔ جو سادہ آگاہی مہم تھی، وہ اب ایک تحریک بن چکی ہے۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں ’’ ریئل لائف سیفٹی ٹپس اینڈ موٹیویشن‘‘ لکھا ہے۔ دو مہینوں میں 83 پوسٹس سے قریب 10,000 فالوورز مل گئے۔ رات کی شفٹس اور گشت کے بیچ ایک کانسٹیبل کے لیے غیر معمولی کامیابی۔ اب ان کے سامعین میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ساتھی افسران بھی شامل ہیں، جو ویڈیوز اپنے نیٹ ورکس میں شیئر کرتے ہیں۔ ’’ان کا اچھا رسپانس ہے‘‘ علی عاجزی سے کہتے ہیں۔ ’’مقصد یہ ہے کہ ایک بھی شخص اپنی بچت نہ گنوائے۔‘‘ علی مسئلے کی شدت سے آگاہ ہیں۔ ’’اب تو ہر روز سائبر فراڈ کی شکایات آ رہی ہیں۔ اخبارات دیکھیں تو وہی خبریں۔‘‘ ان کے پاس بس ایک فون، اخبار اور ڈیجیٹل ڈاکوؤں کے خلاف انتقام کی عزم ہے۔ ابھی کانسٹیبل محمد احمد علی اپنی دوہری ذمہ داری نبھا رہے ہیں: حسین ساگر کی گشت اور انسٹاگرام ریلز سے شہر کی حفاظت کررہے ہیں ۔کانسٹبل محمداحمد علی نے سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ رجحان دیکھا ہے کہ آئے دن ڈائل 100 پر زیادہ تر سائبر کرائم سے متعلق شکایتیں موصول ہورہی ہیں اور دوست احباب میں بھی سائبر دھوکہ بازی کا شکار ہورہے ہیں ۔ لہذا انہوں نے شخصی طورپر سائبر کرائم کے بارے میں شعور بیداری کا ارادہ کیا اور انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی شہری کسی بھی عمر کا ہو سائبر کرائم کا شکار ہوسکتا ہے چونکہ فون میں پروٹیکشن نہیں بلکہ شعور بیداری ہی اس کا حل ہے ۔