پولیس کی شکایتوں کا جائزہ لینے والے اداروں کو تشکیل دیا جائے

   


تلنگانہ اور آندھراپردیش کو ہائیکورٹ کی ہدایت، صدور نشین کیلئے ریٹائرڈ ججس کے نام زیر غور
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اسٹیٹ سیکوریٹی کمیشن اور پولیس کمپلینٹ اتھاریٹی کے صدورنشین کے عاجلانہ تقرر کے اقدامات کئے جائیں۔ مذکورہ اداروں کے ذریعہ عوامی شکایات کی سماعت کی جاتی ہے جو پولیس کی جانب سے اختیارات کا بیجا استعمال سے متعلق ہوتی ہے۔ سپریم کوٹر نے 2007 میں ریاستوں کو مذکورہ اداروں کے قیام کی ہدایت دیتے ہوئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے تھے۔ ایک دہے گزرنے کے باوجود ریاستوں نے احکامات پر عمل نہیں کیا جس کا ہائیکورٹ نے سنجیدگی سے نوٹ لیا ہے ۔ حکومت نے حال ہی میں دونوں ادارے قائم کئے لیکن صدورنشین کا یہ کہتے ہوئے تقرر نہیں کیا کہ ہائی کورٹ کو ریٹائرڈ ججس کے ناموں کی سفارش کرنی چاہئے ۔ اسٹیٹ سیکوریٹی کمیشن کے صدرنشین کے لئے ریٹائرڈ جج کی ضرورت ہے جبکہ پولیس کمپلینٹ اتھاریٹی کے صدرنشین کے طور پر ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج کا تقرر کیا جاسکتا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے بعض ریٹائرڈ ججس کے نام منظوری کیلئے 8 جنوری کو ہائی کورٹ رجسٹری روانہ کئے تھے ۔ ہائی کورٹ نے اندرون 4 ہفتے دونوں اداروں کے صدورنشین کے تقرر کی ہدایت دی۔ عدالت نے آندھراپردیش حکومت کی جانب سے دونوں اداروں کے قیام میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ یہ معاملہ تلنگانہ کا ہے لیکن وہ آندھراپردیش حکومت کو ہدایت دیتے ہیں کہ اندرون 4 ہفتے دونوں اداروںکی تشکیل عمل میں لائی جائے۔