پولیس کی مار پیٹ کا شکار شخص کی موت

   

متوفی کے رشتہ داروں کا احتجاج ، فٹنس سے صحت بگڑنے پر دواخانہ منتقلی کے بعد فوت : پولیس کا ادعا
حیدرآباد۔/26 اپریل، ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ایک اور شخص پولیس کی مبینہ مارپیٹ سے فوت ہوگیا۔ حراست میں لینے کے بعد چرنجیوی کو پولیس نے شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد چرنجیوی کے رشتہ داروں نے گاندھی ہاسپٹل پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے خاطی پولیس ملازمین کے خلاف سخت کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ چرنجیوی کے رشتہ داروں کے احتجاج کے سبب گاندھی ہاسپٹل کے قریب سنسنی پیدا ہوگئی اور پولیس نے بھاری جمعیت کو طلب کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کرلیا۔ ذرائع کے مطابق چرنجیوی کو جو سنگارینی کالونی سعید آباد علاقہ کا ساکن تھا سیل فون چوری کے الزام میں پوچھ تاچھ کے لئے پولیس نے تحویل میں لیا۔ پہلے انہیں بتایا گیا کہ ایل بی نگر پولیس نے حراست میں لیا تھا تاہم جب رشتہ دار ایل بی نگر پولیس پہنچے تو پولیس نے انہیں بتایا کہ کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔ چرنجیوی نے خود اس کے رشتہ داروں کو یہ بات بتائی تھی۔ رات تقریباً 9 بجے تکا رام گیٹ پولیس کی جانب سے چرنجیوی کے رشتہ داروں کو فون پر اطلاع دی گئی کہ چرنجیوی کی صحت بگڑنے کے سبب وہ گاندھی ہاسپٹل میں فوت ہوگیا۔ پولیس تکا رام گیٹ نے چرنجیوی کو سیل فون چوری کے کیس میں پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا تھا اور اس سے پوچھ تاچھ کی گئی لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے تفتیش نہیں کی گئی صرف پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ اس دوران اچانک فیٹس آنے کے سبب چرنجیوی کی صحت بگڑگئی اور فوری طور پر گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں وہ فوت ہوگیا۔ چرنجیوی اس سے قبل بھی سرقہ کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ تاہم رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ چرنجیوی کو کوئی بیماری نہیں تھی۔ رشتہ داروں نے پولیس تحویل میں ہلاکت کا الزام لگایا اور کہا کہ پولیس کی مارپیٹ سے ہی چرنجیوی فوت ہوگیا۔ چرنجیوی کی نعش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔ پولیس نے اس معاملہ میں اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ع